منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہونے والی ماڈل آیان علی 5لاکھ ڈالر کی ملکیت کے حوالے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اپریل

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-04-01
تاریخ اشاعت: 2015-04-01
تاریخ اشاعت: 2015-04-01
تاریخ اشاعت: 2015-04-01
تاریخ اشاعت: 2015-04-01
تاریخ اشاعت: 2015-04-01
تاریخ اشاعت: 2015-04-01
تاریخ اشاعت: 2015-04-01
تاریخ اشاعت: 2015-04-01
تاریخ اشاعت: 2015-04-01
تاریخ اشاعت: 2015-04-01
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہونے والی ماڈل آیان علی 5لاکھ ڈالر کی ملکیت کے حوالے سے تفتیشی اداروں کو مطمئن نہ کر سکی،بحریہ ٹاؤن نے ماڈل آیان علی کے پلاٹ کے حوالے سے کسی بھی ٹرانزیکشن سے انکار کر دیا ،ایف بی آر حکام نے بھی تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا،ایان علی کی ضمانت کی درخواست مسترد ،ایان علی ضمانت کی درخواست خارج ہونے پر انٹرا کورٹ اپیل عدالت عالیہ میں دائر کرے گی،اپیل آج بدھ کو دائر کئے جانے کا امکان

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔1اپریل۔2015ء)منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہونے والی ماڈل آیان علی 5لاکھ ڈالر کی ملکیت کے حوالے سے تفتیشی اداروں کو مطمئن نہ کر سکی ،بحریہ ٹاؤن نے ماڈل آیان علی کے پلاٹ کے حوالے سے کسی بھی ٹرانزیکشن سے انکار کر دیا ،ایف بی آر حکام نے بھی تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہونے والی ماڈل آیان علی نے عدالت میں یہ بیان جمع کرایا تھا کہ 5لاکھ ڈالر کی رقم پلاٹ فروخت کر کے حاصل کی تھی اور اس سلسلے میں انہوں نے پراپرٹی ڈیلر کے کاغذات بھی جمع کرائے تھے ایف بی آر حکام نے بھی ماڈل آیان علی سے رقم کی ملکیت اور اس پر ادا کی جانے والی ٹیکس سے متعلق تفتیش کی تھی اور اس کے بیان کی روشنی میں ایف بی آرحکام نے کراچی لاہور اور اسلام آباد میں بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کو معلومات فراہم کرنے کیلئے خطوط لکھے تھے ذرائع کے مطابق تفتیشی حکام آیان علی کے بیان سے مطمئن نہ ہوسکے اور اس بات کی تفتیش کی جارہی کہ رقم سے متعلق میڈیا میں جو خبریں گردش کر رہی ہیں کہ رقم سابق حکمران جماعت کے اہم سیاسی شخصیت کے بھائی کی ملکیت ہے اور ماڈل آیان علی اس سے قبل بھی کئی بار بیرون ممالک ڈالر لے جاچکی ہیں اس سلسلے میں ایف بی آر حکام نے تفتیش کا دائرہ بیرون ملک تک وسیع کر دیا ہے ۔

دوسری جانب منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ماڈل ایان علی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی گئی۔ درخواست ضمانت ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس محمد مقبول باوجوہ نے کی۔ ماڈل ایان علی کی جانب سے سینیئر کونسل سردار محمد اسحاق نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ خواتین کے حوالے سے قانون میں گنجائش موجود ہے کہ سنگین جرائم سمیت دیگر مقدمہ میں بھی ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے۔ ایان علی سے تمام ادارے تحقیقات کر چکے ہیں۔

وہ گرفتاری کے بعد جیل جاچکی ہے لہذا اب اس کی ضرورت نہیں ایان علی غیر شادی شدہ اور اس کی عمر بائیس سال ہے چھ سال قبل اس کے باپ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد بچوں سمیت گھر سے نکال دیا عدالتی فیصلوں میں ایسے فیصلے بھی ہیں جن میں ضمانت لی گئی ہے اس موقع پر انہوں نے عدالت میں منی لانڈرنگ اور دیگر کیسوں میں سماعت سے متعلق عدالتی فیصلوں کے ریفرنس بھی عدالت میں پیش کئے کسٹم کی جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر فرحت نواز لودھی نے اپنے دلائل میں کہا کہ کسٹم ایکٹ کی سیکشن 156 کے تحت جرم کا اطلاق ہوتا ہے ایان علی کی تحویل سے غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی اور اس نے اس بات کا اعتراف بھی کیا لہذا اسے ضمانت پر رہا نہ کیاجائے۔

طویل دلائل کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو شام پونے پانچ بجے سنایا گیا جس کے مطابق ایان علی کی درخواست ضمانت خارج کردی ۔ادھرمعروف ماڈل ایان علی ضمانت کی درخواست خارج ہونے پر انٹرا کورٹ اپیل عدالت عالیہ میں دائر کرے گی۔ اس حوالے سے اپیل آج بدھ کو دائر کئے جانے کا امکان ہے۔ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس محمود مقبول باجوہ نے ماڈل ایان علی کی ضمانت درخواست منگل کے روز خارج کی جس پر اب وہ اس فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کریں گی۔ ذرائع نے خبر رساں ادارے کو بتایا اپیل آج بدھ کو دائر کئے جانے کا امکان ہے۔

01-04-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان