جسٹس جواد ایس خواجہ سے انصاف کی توقع نہیں، اس لئے مقدمہ کو کسی اور بینچ میں منتقل ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
-

اسلام آباد

تلاش کیجئے

جسٹس جواد ایس خواجہ سے انصاف کی توقع نہیں، اس لئے مقدمہ کو کسی اور بینچ میں منتقل کیا جائے،بیر سٹر علی ظفر کی استدعا،24مارچ تایکم اپریل 2015تک التواء کی استدعاچیف جسٹس پاکستان نے منظور اور ،جسٹس جواد ایس خواجہ نے نامنظور کردی،سپریم کورٹ کے وکیل نے بطور وکیل اپنا بنیادی حق مجروح ہونے پر چیف جسٹس آف پاکستان کو درخواست بھجوادی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔31 مارچ۔2015ء ) سپریم کورٹ کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے بطور وکیل اپنا بنیادی حق مجروح ہونے پر چیف جسٹس آف پاکستان کو درخواست بھجوادی ہے اور ان سے استدعا کی ہے کہ انہیں جسٹس جواد ایس خواجہ سے انصاف کی توقع نہیں اس لئے مقدمہ کو کسی اور بینچ میں منتقل کیا جائے ۔ انہوں نے درخواست بحریہ ٹاؤن بنام محکمہ جنگلات پنجاب اراضی تنازعہ کیس میں دائر کی ہے ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس جواد ایس خواجہ سے انصاف کی توقع نہیں اس لئے اس مقدمہ کو کسی اور بینچ میں منتقل کیاجائے ۔

ویسے بھی سپریم کورٹ ملک ریاض بنام ڈاکٹر ارسلان افتخار (سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے )کے مقدمہ میں قرار دے چکی ہے کہ شفاف ٹرائل ہر فرد کا بنیادی حق ہے جس سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔ اس لئے اس مقدمہ میں بھی انصاف کے تقاضوں کو پورا کیاجائے ۔ بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے چیف جسٹس کو بھجوائی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن اور محکمہ جنگلات پنجاب کے درمیان اراضی تنازعہ اس وقت ماتحت عدلیہ میں زیر سماعت ہے ۔

سپریم کورٹ میں اس مقدمہ کے حوالے سے درخواست دی تھی کہ اس کی سماعت کو ملتوی کیا جائے اور یکم اپریل کے بعد کسی ہفتے میں سماعت کیلئے مقرر کیا جائے اور آپ نے بطور چیف جسٹس پاکستان ان کی جانب سے التواء کی درخواست منظور کی تھی اور اس مقدمہ کو التواء میں رکھنے کا حکم جاری کیا تاہم جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں بینچ نے پچیس مارچ 2015ء کو نہ صرف مقدمے کی سماعت کی بلکہ وکیل کی جانب سے 24 مارچ تا یکم اپریل تک التواء کی درخواست بھی قبول نہیں کی حالانکہ یہ التواء بھی آپ نے ( چیف جسٹس آف پاکستان ) دیا تھا مذکورہ مقدمہ میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے بہت سی آبزرویشن بھی دیں بلکہ ایک عبوری ریلیف بھی دے دیا جو ان کے موکل بحریہ ٹاؤن کو عدالتوں سے حتمی فیصلے میں نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔

چیف جسٹس آف پاکستان سے التواء کی منظوری کے باوجود مذکورہ مقدمہ جسٹس جواد ایس خواجہ کے بینچ میں آج منگل کو سماعت کیلئے مقرر کردیا ہے ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس مقدمہ کو ڈی لسٹ کیا جائے اور کسی اور بینچ میں مقرر کیا جائے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی ہدایات پر محکمہ جنگلات پنجاب نے اراضی کی واپسی کیلئے کارروائی شروع کررکھی ہے اور وہ پرائیویٹ گھروں میں جا کر اراضی لے رہے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

31-03-2015 :تاریخ اشاعت