اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزائے موت کے قیدی ذوالفقار کے جاری کئے گئے ڈیتھ وارنٹ میں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
تاریخ اشاعت: 2015-03-31
-

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:23 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:29 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:31 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:09:56 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:09:57 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:10:00 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزائے موت کے قیدی ذوالفقار کے جاری کئے گئے ڈیتھ وارنٹ میں ایک دن کی توسیع کر دی، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف سے اسلام آباد میں قائم ہونے والی نئی انسداد دہشتگردی عدالت کا نوٹیفکیشن طلب، کیس کی سماعت ایک روز کیلئے ملتوی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔31 مارچ۔2015ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزائے موت کے قیدی ذوالفقار کے جاری کئے گئے ڈیتھ وارنٹ میں ایک دن کی توسیع کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف سے اسلام آباد میں قائم ہونے والی نئی انسداد دہشتگردی عدالت کا نوٹیفکیشن طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک روز کیلئے ملتوی کردی ۔ پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں سزائے موت کے قیدی ملزم ذوالفقار کیس کی سماعت ہوئی درخواست گزار کے وکیل رانا کاشف سلیم عدالت عالیہ میں پیش ہوئے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف اور ڈپٹی اٹارنی جنرل بیرسٹر جہانگیر جدون عدالت عالیہ میں پیش ہوئے ۔ درخواست گزار کے وکیل رانا کاشف سلیم نے عدالت کو بتایا کہ میرے موکل ذوالفقار کو انسداد دہشتگردی راولپنڈی کی عدالت نے دو افراد کے قتل میں سزائے موت سنائی تھی جبکہ اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نمبر 2نے ملزم کے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیئے ہیں ۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ تین روز قبل عدالت میں میرے موکل کی جانب سے ایک پٹیشن دائر کی گئی جس پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا تھا اور عدالت میں سوال اٹھایا کہ میرے موکل کو انسداد دہشتگردی کی عدالت راولپنڈی نے سزائے موت دی تھی جبکہ ڈیتھ وارنٹ اسلام آباد کی دہشتگردی کی عدالت نے جاری کئے ہیں ۔

آئین کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت ڈیتھ وارنٹ جاری نہیں کرسکتی کیونکہ جس عدالت سے سزائے موت ہو وہی عدالت ملزم کے ڈیتھ وارنٹ جاری کرسکتی ہے جس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل میاں عبدالرؤف سے استفسار کیا کہ کیا قانون کے مطابق ملزم کے راولپنڈی کی دہشتگردی کی کورٹ ڈیتھ وارنٹ جاری کرسکتی ہے جس پر انہوں نے صدارتی آرڈیننس 1970ء کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی عدالت نمبر 2عدالت عالیہ کے حکم کے مطابق قائم کی گئی جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوا ہے اس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل میاں عبدالرؤف کو احکامات جاری کئے ہیں کہ وہ انسداد دہشتگردی اسلام آباد کی عدالت نمبر 2کا جاری ہونے والا نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کریں عدالت نے ایک اور سزائے موت کے تہرے قتل کیس کی سماعت بھی ایک روز کے لئے ملتوی کردی ۔

31-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان