پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک ارب 86 کروڑ کے فنڈز ریسرچ کی بجائے سرمایہ کاری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک ارب 86 کروڑ کے فنڈز ریسرچ کی بجائے سرمایہ کاری پر لگا دیئے،حکومت بھاری رقوم کا منافع کھانے والوں کی تحقیقات کرے،آڈٹ رپور ٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔30 مارچ۔2015ء) پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک ارب 86 کروڑ روپے ریسرچ پر خرچ کرنے کے بجائے کمرشل بینکوں میں غیر قانونی طور پر سرمایہ کاری پر لگا دیئے۔ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے سرمایہ کاری پر آنے والے منافع کو بھی اپنی عیاشیوں پر اڑا دیئے ہیں۔ یہ انکشاف آڈیٹر جنرل کی ایک رپورٹ میں کیاگیا ہے۔ خبر رساں ادارے کو ملنے والی یہ آڈٹ رپورٹ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ مالیکیول بائیولوجی لیبارٹری کو دیئے گئے اربوں روپے فنڈز پر تیار کی گئی ہے جس میں بے انتہا مالی بدعنوانیوں اور مالی بد انتظامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے‘ رپورٹ کے مطابق حکومت نے بائیومالیکیول لیبارٹری میں ریسرچ کیلئے اربوں روپے کے فنڈز دیئے گئے ۔

یہ فنڈز ریسرچ پر خرچ کرنے کی بجائے (سی ای ایم پی) انتظامیہ (ٹی ڈی آر) ایوسمنٹ بانڈز، یہ سرمایہ کاری زیادہ تر الائیڈ بینک ‘ حبیب بینک لمیٹڈ میبں بارہ مختلف اکاؤنٹس سے نکلوا کر کی گئی۔ ان کمرشل بینکوں میں 43 کروڑ روپے 2011 ء سے کسی بھی منصوبہ میں خرچ کرنے کے بجائے بینکوں کے استعمال کیلئے پڑی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے آڈٹ حکام کو بتایا کہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

30-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان