یو اے ای میں یمنی سفیر احمد علی صالح برطرف
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
تاریخ اشاعت: 2015-03-30
-

تلاش کیجئے

یو اے ای میں یمنی سفیر احمد علی صالح برطرف

صنعاء (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔30 مارچ۔2015ء)یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اپنے پیش رو سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے اور متحدہ عرب امارات میں سفیر احمد علی صالح کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔احمد علی صالح 2013ء سے متحدہ عرب امارات میں یمن کے سفیر چلے آرہے تھے۔اس سے قبل وہ یمنی فوج کے ایلیٹ یونٹ ری پبلکن گارڈ کے کمانڈر تھے لیکن صدر عبد ربہ منصور ہادی نے علی صالح کی 2012ء میں اقتدار سے رخصتی کے بعد ری پبلکن گارڈ کو کالعدم کردیا تھا اور یوں احمد علی صالح کا عہدہ ختم ہوگیا تھا۔

اس کے بعد انھوں نے یو اے ای میں سفیر متعیّن ہونے کے باوجود اپنے ملک میں والد کی وفادار فورسز کے ساتھ ناتا نہیں توڑا تھا اور وہ بدستور اپنے والد کے وفادار فوجیوں کے یونٹوں کی قیادت کررہے تھے۔مارچ کے اوائل میں ان کے سیکڑوں حامیوں نے صنعا میں ان کے حق میں مظاہرہ کیا تھا اور ان سے صدارتی انتخاب لڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔یمنی صدر کی جانب سے احمد علی صالح کو سفارتی ذمے داریوں سے ہٹانے کے اعلان سے ایک روز قبل ہی سابق صدر کے ایک بیٹے کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا کون سا بیٹا زخمی ہوا ہے۔

احمد صالح یا خالد۔العربیہ نیوز نے ہفتے کے روز یہ انکشاف کیا تھا کہ احمد نے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف فضائی مہم کے آغاز صرف دو روز قبل سعودی حکام سے رابطہ کیا تھا لیکن ان کی تجویز مسترد کردی گئی تھی۔انھوں نے سعودی حکام کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر انھیں اور ان کے والد کو معافی دے دی جائے تو وہ حوثی ملیشیا کے خلاف جنگ لڑنے کو تیار ہیں۔انھوں نے سعودی حکام کو بتایا تھا کہ انھیں معافی ملنے کی صورت میں علی صالح کے وفادار پانچ ہزار سکیورٹی اہلکار اور ری پبلکن گارڈ کے یونٹوں کے قریباً ایک لاکھ ارکان حوثیوں کے خلاف بغاوت برپا کردیں گے لیکن سعودی عرب نے انھیں صاف انکار کردیا تھا۔

علی عبداللہ صالح نے حالیہ مہینوں کے دوران حوثی باغیوں کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا تھا۔بہت سے یمنیوں کا خیال ہے کہ انھوں نے ہی حوثیوں کو ملک کے جنوبی شہروں پر چڑھائی کی ترغیب وتحریک دی تھی اور اپنے وفاداروں کو ان کی حمایت پر آمادہ کیا تھا۔ان کے بیٹے احمد علی صالح کے زیر قیادت جنگجو حوثیوں کے شانہ بشانہ صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔یمن کے ری پبلکن گارڈ سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفاداری ہی کا دم بھر رہے ہیں۔

وہ حوثی باغیوں کی طرح شیعہ زیدی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور عبد ربہ منصور ہادی کے شدید ناقد ہیں۔یمنی صدر اس وقت سعودی عرب سے اپنی حکومت چلا رہے ہیں اور ان کے عارضی دارالحکومت عدن کا حوثی باغیوں اور احمد علی کے وفادار جنگجو یونٹوں نے محاصرہ کررکھا ہے لیکن سعودی عرب کی فضائی مہم کے آغاز کے بعد ان کی پیش قدمی رک چکی ہے اور لڑاکا طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں انھیں بھاری جانی نقصانی اٹھانا پڑ رہا ہے۔

30-03-2015 :تاریخ اشاعت