کسی کے نجی مکالمے کو ریکارڈ یا سائیٹ پر ڈالنا غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت ہے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-29
تاریخ اشاعت: 2015-03-29
تاریخ اشاعت: 2015-03-29
تاریخ اشاعت: 2015-03-29
تاریخ اشاعت: 2015-03-29
تاریخ اشاعت: 2015-03-29
تاریخ اشاعت: 2015-03-29
تاریخ اشاعت: 2015-03-29
تاریخ اشاعت: 2015-03-29
تاریخ اشاعت: 2015-03-29
تاریخ اشاعت: 2015-03-29
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

تلاش کیجئے

کسی کے نجی مکالمے کو ریکارڈ یا سائیٹ پر ڈالنا غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت ہے جس کی مذمت کی جانی چاہیے‘ سعد رفیق

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔29 مارچ۔2015ء) وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کسی کے پرائیویٹ مکالمے کو ریکارڈ کرنا یا سائیٹ پر ڈالنا ایک غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت ہے جس کی مذمت کی جانی چاہیے۔ وہ ہفتے کی سہ پہر ریلوے اسٹیڈیم میں اخبار نویسوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ گزشتہ روز منظر عام پر آنے والی عمران خان کی ٹیپ کے متعلق ایک سوال پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کوئی غیر اخلاقی و غیر قانونی کام ہمارے سیاسی مخالف کے ساتھ بھی کیا جائے تو میں اس کی تائید نہیں کر سکتا۔

جہاں تک اس گفتگو کا تعلق ہے تو اس میں کوئی نیا انکشاف نہیں۔ وہ دھرنے کے دوران اور اس سے پہلے بھی جلسوں جلوسوں میں جو زبان استعمال کرتے رہے، وہ سب کو یاد ہے۔ پی ٹی وی پر قبضے کے بعد انہوں نے ایک دوسرے کو مبارکبادیں بھی دیں۔ ہم نے اس وقت بھی اس سب کچھ کی مذمت کی تھی لیکن ذاتی گفتگو ٹیپ کرنے کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔سعودی عرب کو فوج بھیجنے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک نازک اور حساس مسئلہ ہے جس پر فارن آفس ہی کو بات کرنی چاہیے لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سعودی عرب وہ دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی غیر مشروط مدد کی۔

حرمین کی سرزمین ہونے کی وجہ سے اس کا خاص تقدس بھی ہے جس کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ کراچی آپریشن پر ایم کیو ایم کے موٴقف کے متعلق وزیر ریلوے نے کہا کہ ایم کیو ایم نے گزشتہ روز وزیراعظم سے ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اصل مسئلہ کراچی کے امن کا ہے۔ آپریشن کا مقصد کسی سیاسی جماعت کودیوار سے لگانا نہیں، ویسے بھی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کا دور گزر گیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو امن دینے اور جرائم سے پاک کرنے کے لیے ایم کیو ایم کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ اسے اپنی صفوں کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کا مسئلہ درپیش ہے، تو اسے مطعون کرنے کی بجائے اس میں اس کی مدد کرنی چاہیے۔ حکومت دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے ”زیروٹالرینس“ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، ان کے خاتمے تک ان کا تعاقب جاری رہے گا۔

29-03-2015 :تاریخ اشاعت