شدت پسندی کے مقابلے میں علما کا آ ن لائن میگزین، اس آ ن لائن میگزین کا مقصد انٹرنیٹ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-28
تاریخ اشاعت: 2015-03-28
تاریخ اشاعت: 2015-03-28
تاریخ اشاعت: 2015-03-28
تاریخ اشاعت: 2015-03-28
تاریخ اشاعت: 2015-03-28
تاریخ اشاعت: 2015-03-28
تاریخ اشاعت: 2015-03-28
تاریخ اشاعت: 2015-03-28
تاریخ اشاعت: 2015-03-28
تاریخ اشاعت: 2015-03-28
پچھلی خبریں - مزید خبریں

تلاش کیجئے

شدت پسندی کے مقابلے میں علما کا آ ن لائن میگزین، اس آ ن لائن میگزین کا مقصد انٹرنیٹ پر شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی لہر کا مقابلہ کرنا ہے

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔28 مارچ۔2015ء)برطانیہ میں شدت پسندی کے مقابلے میں ’انٹرنیٹ پر دوبارہ اپنی جگہ حاصل‘ کرنے مقصد کے تحت ایک نئے آ ن لائن میگزین کا اجرا کیا گیا ہے۔حقیقہ نامی یہ میگزین برطانوی علمائے دین نے شروع کیا ہے اور اس کے نام کا مطلب سچائی یا حقیقت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد نوجوانوں کو شدت پسند تنظیموں کی حقیقت کے بارے میں مزید آگاہی فراہم کرنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ دولت اسلامیہ جیسے شدت پسند گروہوں کے عمل کا براہ راست جواب ہے۔

دولت اسلامیہ اپنے پیغامات پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتی ہے۔’امامز آ ن لائن‘ نامی ویب سائٹ کی جانب سے شروع کیے گئے اس میگزین کے اجرا کے لیے لندن میں ایک سو سے زائد امام اکٹھے ہوئے۔امامز آ ن لائن ڈاٹ کام کے سینیئر ایڈیٹر قاری عاصم کے مطابق: ’کسی نہ کسی کو اس جگہ سے دولت اسلامیہ کا قبضہ ختم کرانا ہو گا، اور ایسا صرف امام اور مذہبی رہنما کر سکتے ہیں جو اپنے معاشرے کی اصلاح کرتے ہیں۔

‘ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہم ایک ڈیجیٹل دنیا میں رہتے ہیں، کچھ نوجوان مسجد میں نہیں آتے اور ہم نے ان تک پہنچنا ہے اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں یہ مسلمانوں کا کردار ہو گا۔‘ایک اندازے کے مطابق ٹوئٹر دولت اسلامیہ کے حمایتیوں کے 70 ہزار سے زائد اکاوٴنٹ ہیں ۔اس میگزین کے لیے لکھنے والے ماہرین کا دولت اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کے مقابلے میں بیانیہ پیش کرنے اور قرآن کی ان آیات کی تشریح کرنے کا ارادہ ہے جنھیں شدت پسند یورپ اور اسلامی دنیا سے نوجوانوں کو شام اور عراق میں لڑنے اور مرنے کے لیے مائل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

امامز آ ن لائن ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

28-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان