آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بلے بازوں کے ہاتھوں باوٴلرز ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ مارچ

تلاش کیجئے

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بلے بازوں کے ہاتھوں باوٴلرز کی خوب پٹائی ، آئی سی سی نے سنجیدگی سے قوانین کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کرلیا ، ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تیزی سے پھیلاوٴ سے کھیل کے دوسری فارم پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں،ہم آخری دس اوورز میں دائرے سے باہر کھلاڑیوں کی تعداد بڑھا کر پانچ کر سکتے ہیں ، ڈیو رچرڈسن

سڈنی(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔27 مارچ۔2015ء) آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بلے بازوں کے ہاتھوں باوٴلرز کی ہونے والی پٹائی کے بعد آئی سی سی نے سنجیدگی سے قوانین کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ورلڈ کپ میں اب تک اکثر میچوں میں بڑے بڑے اسکور بنتے آئے اور چھوٹی باوٴنڈریز کے ساتھ ساتھ بلے کا سائز بڑھنے سے 300 رنز کا ہدف بھی معمولی تصور کیا جانا لگا ہے۔چھوٹی باوٴنڈریز، فیلڈ کی پابندیاں اور بلے کا سائز بڑھنے سے جہاں ایک طرف باوٴلرز کے لیے آسانیاں پیدا ہوتی جا رہی ہیں تو وہیں دوسری طرف باوٴلرز کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک ورلڈ کپ میں 450 سے زائد چھکے اور دو ہزار سے زائد چوکے لگ چکے ہیں۔

گزشتہ دس ورلڈ کپ مقابلوں میں کوئی بھی بلے باز ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا اور صرف ایک بار 400 سے زائد رنز بنے تھے لیکن اس ورلڈ کپ مقابلے میں اب تک دو ڈبل سنچریاں اسکور ہو چکی ہیں جبکہ تین بار 400 سے زائد رنز کا ہندسہ عبور کیا جا چکا ہے۔لیکن دوسری جانب باوٴلرز کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں اور اب تک نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

27-03-2015 :تاریخ اشاعت