ایران نے یمن میں ”فیصلہ کن طوفان“ کی مذمت کردی،سعودی عرب کی قیادت میں فضائی حملے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ مارچ

تلاش کیجئے

ایران نے یمن میں ”فیصلہ کن طوفان“ کی مذمت کردی،سعودی عرب کی قیادت میں فضائی حملے فوری طور پر بند کیے جائیں۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف

تہران( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔27 مارچ۔2015ء) ایران نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف آپریشن ''فیصلہ کن طوفان'' کو ''فوجی جارحیت'' قرار دیتے ہوئے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایران کی نیم سرکاری اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سعودی عرب کی قیادت میں فضائی حملے فوری طور پر بند کیے جائیں۔یہ حملے یمن کی علاقائی خودمختاری کے خلاف ہیں''۔

جواد ظریف اس وقت سوئس شہر لاسین میں ہیں جہاں وہ جوہری پروگرام کے تنازعے پر بڑی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں۔انھوں نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''ہم یمن میں جاری بحران کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں گے''۔درایں اثناء ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ''ایران یمن اور اس کے عوام کے خلاف تمام فوجی جارحیت اور فضائی حملوں کا فوری خاتمہ چاہتا ہے۔

یمن میں فوجی کارروائیاں صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیں گی اور ان سے بحران کے پْرامن حل کی راہیں بھی مسدود ہوجائیں گی''۔مرضہ افخم نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں جارحیت خطرناک ہے اور یہ ملکوں کی خود مختاری کے احترام سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اس سے مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے پھیلنے کی راہ ہموار ہوگی''۔سعودی عرب نے بدھ کی رات ''فیصلہ کن طوفان'' کے نام سے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

حوثیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد جنوبی شہروں کی جانب بھی چڑھائی کردی تھی اور انھوں نے گذشتہ چند روز کے دوران جنوبی شہر عدن کا محاصرہ کر لیا تھا جہاں اس وقت یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی مقیم ہیں اور وہیں سے وہ حکومت چلا رہے ہیں۔بعض مغربی ممالک اور یمنی حکام ایران پر حوثی باغیوں کی پشتی بانی اور انھیں اسلحہ اور رقوم مہیا کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں لیکن ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

افریقی مسلم ملک سوڈان نے جمعرات کو ایرانی مشنوں اور گروپوں کے تمام دفاتر کو بند کردیا ہے۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سوڈان نے یہ فیصلہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی مہم کے آغاز کے چند گھنٹے کے بعد کیا ہے۔سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ ہر قسم کے روابط بھی ختم کردیے ہیں۔علی صالح کی وفادار فورسز اس وقت حوثی شیعہ باغیوں کے ساتھ مل کر صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قیادت میں فورسز کے خلاف لڑرہی ہیں اور ان فورسز کی کمان ان کے بیٹے احمد علی عبداللہ صالح کررہے ہیں۔

27-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان