پی ٹی اے میں 6 ارب 23 کروڑ کا نیا سکینڈل ، آڈٹ رپورٹ ،انوشہ رحمان نے خاموشی اختیار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-27
تاریخ اشاعت: 2015-03-27
تاریخ اشاعت: 2015-03-27
تاریخ اشاعت: 2015-03-27
تاریخ اشاعت: 2015-03-27
تاریخ اشاعت: 2015-03-27
تاریخ اشاعت: 2015-03-27
تاریخ اشاعت: 2015-03-27
تاریخ اشاعت: 2015-03-27
تاریخ اشاعت: 2015-03-27
تاریخ اشاعت: 2015-03-27
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

پی ٹی اے میں 6 ارب 23 کروڑ کا نیا سکینڈل ، آڈٹ رپورٹ ،انوشہ رحمان نے خاموشی اختیار کر لی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔27 مارچ۔2015ء) پاکستان ٹیلی حکام اتھارٹی ( پی ٹی اے ) میں 6 ارب 23 کروڑ روپے کا نیا کرپشن سکینڈل سامنے آگیا ہے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے بھی اس بھاری بعد سکینڈل پر خاموشی اختیار کر لی ہے اور اب تک ذمہ داروں کا تعین نہیں کر سکی ۔ خبر رساں ادارے کو حاصل ہونے والی آڈٹ رپورٹ 2014 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ای سی سی کے فیصلے کے برعکس پی ٹی اے کے چیئرمین اور ممبر فنانس نے 5 ڈبلیو ایل ایل روائرلیس لوکل لوپ سیٹشن سوئرز کو 6 ارب 23 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا جو براہ راست قومی خزانہ پر ڈالنے کے مترادف ہے ۔

ای سی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ 450 اور 1900 فزیکولیٹی ڈبلیو ایل ایل لائسنس ہولڈرز کو چار سال کی چھوٹ دی تھی ۔ چار سال کے بعد بھی پی ٹی اے کے کرپٹ حکام نے ڈبلیو ایل ایل والوں سے سپیکٹرم فیس معاف کر دی جس سے قومی خزانہ کو 6 ارب 23 کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا ۔ آڈٹ رپورٹ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

27-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان