ایم کیو ایم کو تحلیل اور الطاف حسین سمیت مرکزی رہنماؤں کے خلاف کاروائی کے لئے سپریم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
- مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

ایم کیو ایم کو تحلیل اور الطاف حسین سمیت مرکزی رہنماؤں کے خلاف کاروائی کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دا ئر

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔26 مارچ۔2015ء)ایم کیو ایم کو تحلیل کرنے اور الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف کاروائی کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کردی گئی۔پٹیشن میں متحدہ قومی مومنٹ کو پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002کے تحت تحلیل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے خلاف معروف قانون دان طارق اسد نے سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت آج(بدھ کو)آئینی پٹیشن دائر کی ہے۔

پٹیشن میں وفاقی سیکریٹری داخلہ ،وفاقی سیکریٹری خارجہ،ایم کیو ایم کنوینئر،رابطہ کمیٹی،الطاف حسین،چیئرمین پیمرا،چیئرمین پی ٹی اے،چیف سیکریٹری سندھ،برطانوی ہائی کمشنر،بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض اور نجی ٹی وی کے اینکرمبشرلقمان کو فریق بنایا گیا ہے۔طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی آئینی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ”ایم کیو ایم کراچی میں بہت سے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے،ایم کیو ایم کی دہشت گردی کی وجہ سے آئین کے آرٹیکل 9,14کے تحت حاصل کراچی کے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب ہوچکے ہیں،رینجرز کی جانب سے 11مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارنے کا اقدام انتہائی قابل تحسین ہے،رینجرز نے نائن زیرو میں چھاپہ مار کے نائن زیرو سے خطرناک ٹارگٹ کلرز گرفتار اور بھاری تعداد میں نیٹو اسلحہ برآمد کیا،رینجرز کی جانب سے نائن زیرو پر چھاپے کے بعد صولت مرزا اور ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما عامر خان نے اپنے بیانات میں ایم کیو ایم کے مرکزی رہنماؤں پر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں“۔

پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ”ایم کیو ایم 12مئی 2007کو کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ،تحریک انصاف کی رہنما زہرہ شاہد کے قتل،بلدیہ گارمنٹس فیکٹری کو آگ لگا کے 250سے زائد افراد کے قتل اور کراچی میں شیعہ و سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہے۔ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین ملکی سالمیت کے اداروں کے خلاف سازشوں میں بھی ملوث ہیں۔اس حوالے سے الطاف حسین نے 2001میں برطانوی وزیراعظم ٹونی پلیئر کو آئی ایس آئی کے خلاف خط بھی لکھا تھا۔

بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض ایم کیو ایم کے سہولت کار ہیں،ملک ریاض ایم کیو ایم کی مدد سے کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے لئے شہریوں کی زمینوں پر قبضہ کررہے ہیں،بحریہ ٹاؤن کراچی کے لئے زمینوں پر قبضہ کرنے میں مدد دینے پر ملک ریاض نے الطاف حسین کے نام پر کراچی اور حیدرآباد میں یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے“۔طارق اسد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

26-03-2015 :تاریخ اشاعت