سندھ اور پنجاب کی مختلف جیلوں میں مزید 6 مجرموں کو پھانسی دے دی گئی، 2 کی پھانسی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
پچھلی خبریں -

کراچی

تلاش کیجئے

سندھ اور پنجاب کی مختلف جیلوں میں مزید 6 مجرموں کو پھانسی دے دی گئی، 2 کی پھانسی عین وقت پر رک گئی،سکھر میں 2،میانوالی،کوٹ لکھپت ، بہاولپور اور ساہیوال ،میں 1،1 قیدی کو ہ دار پر لٹکایا گیا،سزائے موت پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد سے اب تک 50 سے زائد مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے

کرا چی / لا ہو ر(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔26 مارچ۔2015ء)سندھ اور پنجاب کی مختلف جیلوں میں قتل کے 6 مجرموں کو سزائے موت دے دی گئی جب کہ 2 مجرموں کی پھانسی عین وقت پر رک گئی۔ تفصیلا ت کے مطابق سکھر کی سنٹرل جیل 1 میں سزائے موت کے 2 قیدیوں کو علی الصبح تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے تھے، جیل کے اندر اور اطراف رینجرز، پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

عبدالرزاق چوہان نے 2001 میں اقرار میرانی نامی شخص کو قتل کیا تھا جب کہ جلیل موریجو اور مقتول کے ورثا کے درمیان آخری وقت تک صلح کی کوششیں ہوتی رہیں لیکن ناکامی پر اسے بھی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔میانوالی کی سنٹرل جیل میں مجرم محمد خان کو پھانسی دے دی گئی، محمد خان نے 2001 میں محمد نواز نامی شخص کو قتل کیا تھا۔ میانوالی میں قتل کے ایک مجرم جھم دار کی پھانسی مقتول کے ورثاء سے صلح کے بعد آخری لمحات میں روک دی گئی۔

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بھی ایک مجرم محمد ایوب کو تختہ دار پرلٹکا دیا گیا، مجرم کو سیشن کورٹ شیخوپورہ کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ بہاولپور کی سنٹرل جیل میں خاتون سے زیادتی کے بعد قتل کے مجرم غلام یاسین کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا۔ساہیوال کی سنٹرل جیل میں قتل کے مجرم محمد شہباز کو پھانسی گھاٹ پر چڑھا دیا گیا، محمد شہباز نے جائیدار کے تنازع پر ایک بچے کو قتل کر دیا تھا۔ ساہیوال میں قتل کے دوسرے مجرم جعفر کالی کی پھانسی پر عمل درآمد مقتول کے لواحقین سے صلح کے بعد روک دیا گیا۔واضح رہے کہ ملک میں سزائے موت پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد سے اب تک 50 سے زائد مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

26-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان