دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، نواز شریف،کراچی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
تاریخ اشاعت: 2015-03-26
پچھلی خبریں -

کراچی

تلاش کیجئے

دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، نواز شریف،کراچی کی روشنیوں کو بحال کرنے کے لیے امن بے حد ضروری ہے ۔ کراچی میں قیام امن کے لیے تمام جماعتوں کی مشاورت سے آپریشن شروع کیا ۔ کراچی آپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے ۔ دہشت گردوں کو جلد شکست فاش سے دوچار کریں گے ۔ توانائی کے بحران کے خاتمے ، معیشت کی بہتری اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طویل المدت پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں ۔ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں ۔ ملک میں رواداری کی سیاست کو اپنایا ہے اور تمام ایشوز پر پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ، تقریب ،اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔26 مارچ۔2015ء ) وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع کی گئی ہے ، اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ کراچی کی روشنیوں کو بحال کرنے کے لیے امن بے حد ضروری ہے ۔ کراچی میں قیام امن کے لیے تمام جماعتوں کی مشاورت سے آپریشن شروع کیا ۔ کراچی آپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے ۔ دہشت گرد ملک کے کسی بھی علاقے میں چھپے ہوئے ہوں ، دہشت گردوں کو جلد شکست فاش سے دوچار کریں گے ۔

آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کراچی سمیت ملک کے جن علاقوں میں آپریشن شروع کیا ہے ، وہ جاری رکھا جائے گا ۔ توانائی کے بحران کے خاتمے ، معیشت کی بہتری اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طویل المدت پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں ۔ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں ۔ ملک میں رواداری کی سیاست کو اپنایا ہے اور تمام ایشوز پر پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ وہ وقت قریب ہے ، جب ملک سے نہ صرف مسائل کا خاتمہ ہو گا بلکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پی اے ایف آڈیٹوریم میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کی ٹاپ لسٹ کمپنیوں کو ایوارڈز دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان ، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، چیئرمین نجکاری بورڈ مفتاح اسماعیل ، چیئرمین ایس ای سی پی ظفر اعجازی ، کراچی اسٹاک ایکسچینج منیر اے کمال اور دیگر بھی موجود تھے ۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب ہم نے ملک کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں ۔ حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے منشور کے مطابق ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کیا ہے ۔ ہم ماضی کی داستانوں میں جانا نہیں چاہتے ۔ اس وقت ہمارا مقصد اپنے منشور کے مطابق ملک کو ترقی دینا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسیوں کے مثبت اشارے سامنے آ رہے ہیں اور مختلف عالمی اداروں نے اس کو سراہا ہے ۔ انہوں نے توانائی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت توانائی کا بحران ہے ۔ ماضی میں توانائی اور پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ توانائی اور پانی کے مسائل کے حل کے لیے ہم 25 سالہ طویل المدت پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔ قلیل اور طویل المدت پالیسیوں کے باعث ان مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی ، ہوا سے بجلی پیدا کرنے ، پانی سے بجلی پیدا کرنے ، کوئلے اور قدرتی مائع گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں ۔ ملک میں بڑے ڈیمز بنائے جا رہے ہیں ۔ جن میں دیا میر بھاشا ، داسو اور پونجی ڈیمز شامل ہیں ۔ ان پر کام جاری ہے ۔ ان ڈیمز سے نہ صرف بجلی حاصل ہو گی بلکہ پانی کو بھی ذخیرہ کیا جا سکے گا بلکہ بنجر زمینیں دوبارہ کاشت کے قابل ہو سکیں گے ، جس سے زراعت ترقی کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جلد ہی مختلف ذرائع سے 15 سے 17 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہو جائے گی ۔ بجلی اور گیس ہو گی تو ملک کی معیشت بہتر ہو گی اور روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے ۔ دہشت گردی کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے ۔ ہم نے پہلے اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کیے ۔

تاہم جب مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے تو پھر آپریشن کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک اور انفرا اسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے ۔ دہشت گرد بھاگ رہے ہیں ۔ انہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی ۔ وہ چاروں صوبوں سمیت جس علاقے میں بھی ہوں گے ، انہیں ختم کیا جائے گا اور اس حوالے سے آخری حد تک جائیں گے ۔ ہمار عزم ہے کہ ہم دہشت گردی سے ملک کو نجات دلائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر بھی مسلح گروہوں کے خلاف کارورائی جاری ہے ۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہم نے 20 نکاتی قومی ایکشن پلان بنایا ہے ، جس پر چاروں صوبوں میں عمل ہو رہا ہے اور ہماری حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کی ہے ۔ جو آئندہ بھی جاری رکھی جائے گی ۔ کراچی کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی آپریشن کا آغاز ستمبر 2013ء میں کیا گیا ۔ اس حوالے سے سندھ حکومت اور تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے ۔

کراچی آپریشن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں ۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ، اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات میں کمی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی روشنیوں کی بحالی کے امن بہت ضروری ہے ۔ کراچی میں آپریشن سے لوگوں کو اطمینان حاصل ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے اور وہ وقت جلد آنے والا ہے کہ جب کراچی سے جرائم پیشہ عناصر کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ کراچی کو بڑھنا ہے تو یہاں امن بہت ضروری ہے۔

اس کے بغیر خوشحالی نہیں آسکتی۔ کراچی میں ترقی نہیں ہوگی تو پاکستان میں بھی ترقی نہیں ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ کراچی میں آخری جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے تک آپریشن کو جاری رکھا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں قیام امن اور آپریشن کے معاملے پر سندھ حکومت ہمارے ساتھ ہے اور ہم مل کر اس شہر کی ترقی اور قیام امن کے لیے کام کر رہے ہیں اور کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی ۔

ملک کے سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے ملک میں رواداری کی سیاست کی بنیاد ڈالی ہے اور 2013ء کے انتخابات کے بعد آئینی طریقے سے حکومت میں تبدیلی کا مرحلہ مکمل ہوا ۔ نئے صدر اور وزیر اعظم آئے اور سابق صدر اور وزیر اعظم رخصت ہوئے ۔ اس عمل سے جمہوریت مضبوط ہوئی ۔ پڑوسی ممالک سے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے ۔

ہندوستان اور افغانستان سے ہمارے تعلقات بہتر ہیں اور انہیں مزید بہتر کرنا چاہتے ہیں ۔ افغانستان کے ساتھ تعقلقات میں بہتری سے خطے کے امن واستحکام میں مدد ملے گی ۔ معیشت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری بہترین معاشی پالیسی کے باعث ملک کے معاشی اعشاریوں میں بہتری آئی ہے ، جو ہماری کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں ڈالر کا ملک کو نقصان ہوا ۔

دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع کی گئی ہے ، اس کو نہ صرف مکمل کریں گے بلکہ دہشت گردوں کو بھرپور شکست دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو آخری حد تک لے جائیں گے ، جن لوگوں نے ہم پر یہ جنگ مسلط کی ہے ، ان کو شکست ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے سمیت تمام اداروں کی کارکردگی کو ٹھیک کیا جائے گا ۔ ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ہر ممکن تحفظ اور مراعات دیں گے ۔ برآمدات کو بڑھایا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ کراچی حیدر آباد موٹروے پر کام شروع ہو گیا ہے ، جو لاہور تک بڑھائی جائے گی ۔ ہزارہ موٹروے پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ بلوچستان کو بھی ترقی دیں گے ۔ گوادر سے نوابشاہ اور گوادر سے ایران تک لائنیں بچھائی جائیں گی ۔ ایل این جی کی درآمد سے گیس کی قلت کا خاتمہ ہو گا ۔ بجلی اور گیس کی قلت ختم کریں گے بلکہ انہیں سستا بھی کیا جائے گا ۔ وزیر اعظم نے تقریب میں 25 ٹاپ لسٹ کمپنیوں کو ایوارڈ دیئے ۔

اس موقع پر کراچی اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین مینر اے کمال نے اپنے خطاب میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی سے آگاہ کیا اور کہا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا شمار دنیا کے بڑے اسٹاک ایکسچینج میں ہوتا ہے اور مثبت معاشی پالیسیوں کے باعث کراچی اسٹاک ایکسچینج ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ ادھر وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ کراچی کا امن لے کر رہیں گے ۔ کراچی آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا ۔

کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ وفاقی حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پی اے ایف بیس فیصل پر امن وامان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ، چیف سیکرٹری صدیق میمن اور ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے شرکت کی ۔

اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان شریک نہیں ہوئے ۔ وہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد واپس گورنر ہاوٴس آ گئے ۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کراچی کے امن وامان سے متعلق صورت حال کا اجلاس گورنر ہاوٴس یا وزیر اعلیٰ ہاوٴس کے بجائے کسی اور مقام منعقد کیا گیا ہے اور امن وامان کے اجلاس میں گورنر سندھ شریک نہیں ہوئے ہیں ۔

اجلاس میں کور کمانڈر کراچی اور ڈی جی رینجرز نے وزیر اعظم کو کراچی میں امن وامان کی صورت حال اور جاری ٹارگیٹڈ آپریشن پر بریفنگ دی جبکہ چیف سیکرٹری سندھ نے دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد پر تفصیلی طور پر وزیر اعظم کو آگاہ کیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں کراچی میں حالیہ دنوں میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو اور اطراف کے علاقے میں چھاپے اور وہاں سے پکڑے جانے والے اہم ملزمان کی گرفتاریوں ، تفتیش ، عدالتوں میں ان ملزمان کو پیش کرنے ، مختلف تھانوں میں درج مقدمات ، اسلحہ کی برآمدگی ، کراچی میں بیریئر ہٹانے اور دیگر جرائم پیشہ عناصر اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاوٴن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور اس حوالے سے وزیر اعظم کو مکمل بریفنگ دی گئی ۔

وزیر اعظم نے کراچی آپریشن کے باعث حالیہ دنوں میں جرائم کی وارداتوں میں کمی آنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاً رینجرز کی کارکردگی کی تعریف کی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں قیام امن کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کریں گے ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کی کارکردگی کی تعریف کی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ فاسٹ ٹریک پالیسی کے تحت انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کا دائرہ کار صوبوں کے دیگر علاقوں تک وسیع کیا جائے گا اور جو دہشت گرد اس آپریشن کے باعث ملک کے دیگر علاقوں میں فرار ہو گئے ہیں ان کی گرفتاری کے لیے بھی دیگر صوبائی حکومتوں ، خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر حکمت عملی مرتب کی جائے گی ۔

اجلاس میں طے کیاگیا کہ جرائم پیشہ عناصر یا ان کی سرپرستی کرنے والوں کا تعلق کسی بھی جماعت یا گروہ سے ہو ان کو بلا تفریق ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا ۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ کراچی اور صوبے کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ کوئی دہشت گرد فرار نہ ہو سکے ۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ وفاقی حکومت کراچی آپریشن کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی اور گرفتار ملزمان سے تفتیش کو مزید موثر بنایا جائے گا اور جلد از جلد ان ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے چالان عدالتوں میں پیش کیے جائیں گے تاکہ انہیں قرار واقعی سزا دی جا سکے ۔

جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ کراچی کی روشنیوں کیلئے امن کی بحالی ضروری ہے، شہر میں جاری آپریشن کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچائیں گے،دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے امن کے آخری دشمن کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی،کراچی کا امن ہر صورتحال میں واپس لے کر رہونگا۔ کراچی میں امن وامان کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نواز شریف نے شہر میں جرائم کی شرح میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ہر ممکن مدد جاری رہے گی۔ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر کور کمانڈر کراچی اور ڈی جی رینجرز سندھ نے بریفنگ دی۔ ریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی پولیس نے91دن میں نفرت انگیزلٹریچررکھنے پر4افرادپرمقدمات بنائے،نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کے جھنڈیاں اوروال چاکنگ ختم کی گئی،بریفنگ میں دہشتگردوں اورجرائم پیشہ افرادکی گرفتاریوں اوربرآمدہتھیاروں کی تفصیلات،رینجرز،پولیس،انٹیلیجنس اداروں کی کارکردگی اورمانیٹرنگ کی تفصیلات ،کراچی میں فوجی عدالتوں کے قیام اور مقدمات سے متعلق آگاہ کیا گیا ۔

اجلاس میں کر اچی پولیس کی کارکردگی رپورٹ وزیراعظم کوپیش کی گئی، رپورٹ کے مطابق کراچی میں91دن میں کالعدم تنظیموں کیخلاف7ہزار197کارروائیاں ہوئیں،369 پولیس مقابلوں میں کالعدم تنظیموں کے56 دہشت گرد مارے گئے،ہلاک دہشت گردوں کاتعلق القاعدہ،تحریک طالبان، لشکرجھنگوی ،سپاہ صحابہ سے ہے،91دن میں فرقہ ورانہ ،جہادی سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کے18 دہشت گرد پکڑے گئے ہیں۔

26-03-2015 :تاریخ اشاعت