اپنے کیریئر سے مطمئن ہوں ،ریٹائرمنٹ کا فیصلہ حتمی ہے ، مصباح الحق ،پی سی بی کی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید کھیلوں کی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-25
تاریخ اشاعت: 2015-03-25
تاریخ اشاعت: 2015-03-25
تاریخ اشاعت: 2015-03-25
تاریخ اشاعت: 2015-03-25
تاریخ اشاعت: 2015-03-25
-

لاہور

تلاش کیجئے

اپنے کیریئر سے مطمئن ہوں ،ریٹائرمنٹ کا فیصلہ حتمی ہے ، مصباح الحق ،پی سی بی کی حمایت کرنے پر ان کا مشکور ہوں ،ٹیسٹ کرکٹ جاری رکھوں گا ،کھلاڑیوں کی بیٹنگ اور فیلڈنگ میں بہتری کی ضرورت ہے ،اچھا ٹائم ہے طویل منصوبہ بندی کرکے اچھی ٹیم بنائی جاسکتی ہے،سلیکشن کا اختیار صرف سلیکشن کمیٹی کے پاس ہوتا ہے سرفراز سے ہمارا کوئی ایشو نہیں رہا ایک شخص کی وجہ سے کرکٹ اچھی یا بری نہیں ہوتی ،جس کا دل کرتا ہے تجزیہ کار اور اینکر بن جاتا ہے میرے خلاف ایسی زبان استعمال کی گئی جو بیان نہیں کرسکتا ، پاکستان میں بین الاقوامی میچز میری وجہ سے معطل نہیں ہوئے ، سری لنکن ٹیم پر حملہ میں نے نہیں کرایا ،شاہد آفریدی کو کھلانا مجبوری نہیں تھا وہ آل راؤنڈر کھلاڑی ہیں،چھٹے اور ساتویں نمبر پر آفریدی کو کھلانا مجبوری تھی،مجھے بتایا جائے پچھلے ورلڈ کپ میں ہارنے کا ذمہ دار کون ہے، چیئرمین پی سی بی کے بعد میڈیا سے گفتگو

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔25 مارچ۔2015ء) پاکستان کرکٹ ٹیم کے ریٹائر ہونے والے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ پی سی بی کی حمایت کرنے پر ان کا مشکور ہوں ، اپنے کیریئر سے مطمئن ہوں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ حتمی ہے ،کھلاڑیوں کی بیٹنگ اور فیلڈنگ میں بہتری کی ضرورت ہے ،اچھا ٹائم ہے طویل منصوبہ بندی کرکے اچھی ٹیم بنائی جاسکتی ہے ،سلیکشن کا اختیار صرف سلیکشن کمیٹی کے پاس ہوتا ہے سرفراز سے ہمارا کوئی ایشو نہیں رہا ایک شخص کی وجہ سے کرکٹ اچھی یا بری نہیں ہوتی ،جس کا دل کرتا ہے تجزیہ کار اور اینکر بن جاتا ہے میرے خلاف ایسی زبان استعمال کی گئی جو بیان نہیں کرسکتا ، پاکستان میں بین الاقوامی میچز میری وجہ سے معطل نہیں ہوئے ، سری لنکن ٹیم پر حملہ میں نے نہیں کرایا ،شاہد آفریدی کو کھلانا مجبوری نہیں تھا وہ آل راؤنڈر کھلاڑی ہیں،چھٹے اور ساتویں نمبر پر آفریدی کو کھلانا مجبوری تھی،مجھے بتایا جائے پچھلے ورلڈ کپ میں ہارنے کا ذمہ دار کون ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے قائد مصباح الحق چیئرمین پی سی بی سے ملاقات کے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے کیرئیر سے مطمئن ہوں ،ریٹائرمنٹ کا فیصلہ حتمی ہے واپسی کا کوئی ارادہ نہیں،اب صرف ٹیسٹ میچ ہی کھیلوں گا،پی سی بی کی حمایت کرنے پر ان کا مشکور ہوں،رواں سا ل کے تمام ٹیسٹ میچز کھیلنے کا ارادہ ہے ،انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں بڑی اننگ بنانے میں ناکام رہے ہیں،کھلاڑیوں کی بیٹنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے،یہ اچھا ٹائم ہے ایک طویل منصوبہ بندی کر کے ایک اچھی ٹیم بنائی جاسکتی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سرفراز پریکٹس میچوں میں سکور بنانے میں ناکام رہا ہے،سرفراز کے ساتھ ہمارا کوئی ایشو نہیں رہا ہے ،مصباح الحق نے کہا کہ سلیکشن کا اختیار صرف سلیکشن کمیٹی کے پاس ہوتا ہے ،ایک شخص کی وجہ سے کرکٹ اچھی یا بری نہیں ہوتی ، ،اپنے کیرئیر سے مطمئن ہوں،جس کا دل کرتا ہے تجزیہ کار اور اینکر بن جاتا ہے،میرے خلاف ایسی زبان استعمال کی گئی جو بیان نہیں کر سکتا ،تمام ذمہ داری مجھ پر نہ ڈالی جائے ،سری لنکن ٹیم پر حملہ میں نے نہیں کرایا تھا ،لگتا ہے تبصرہ کرنے والوں کی اخلاقی تربیت ہی نہیں کی گئی ،لگتا ہے جس کا کوئی کام نہیں ہوتا وہ تجزیہ کار بن جاتا ہے،تنقید کرنے والوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ،تنقید کرنے والوں کے پاس کوئی حل نہیں ہوتا ۔

،پاکستان میں بین الاقوامی میچز میری وجہ سے معطل نہیں ہوئے۔تنقید کرنے والے بتائیں کہ2007 ء کے ورلڈ کپ میں پہلے راؤنڈ میں باہر کیوں ہوگئے تھے۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ شاہد آفریدی کو کھلانا مجبوری نہیں تھا وہ آل راؤنڈر کھلاڑی ہیں،چھٹے اور ساتویں نمبر پر آفریدی کو کھلانا مجبوری تھی وہ فارم میں تھے لیکن بدقسمتی سے میچوں میں فارم نہ دکھا سکے۔مصباح الحق نے کہا کہ کسی ایک کھلاڑی کو ٹھیک کرنے کی بجائے پورے سسٹم کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ، ایک شخص کی وجہ سے کرکٹ اچھی اور بری نہیں ہوتی ،انہوں نے کہا کہ میڈیا میں بہت سے اچھے لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کی کرکٹ کو سپورٹ کیا ہے اور ہم ان کی رہنمائی لیتے رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ہارنے کی ذمہ داری کسی ایک شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی ہے مجھے بتایا جائے پچھلے ورلڈ کپ میں ہارنے کا ذمہ دار کون ہے، انہوں نے کہا کہ خراب کارکردگی کے باوجود بھی کوارٹر فائنل تک پہنچیں ہیں

25-03-2015 :تاریخ اشاعت