بھارت، انٹر نیٹ پر قابل اعتراض مواد، سپریم کورٹ نے گرفتاری کی دفعہ ختم کردی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

تلاش کیجئے

بھارت، انٹر نیٹ پر قابل اعتراض مواد، سپریم کورٹ نے گرفتاری کی دفعہ ختم کردی

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔25 مارچ۔2015ء)بھارت کی سپریم کورٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اس متنازعہ دفعہ کو ختم کردیا ہے جس کے تحت پولیس کو انٹرنٹ پر ’قابل اعتراض‘ آراء کے اظہار پر لوگوں کو گرفتار کرنے کا حق حاصل تھا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66 اے غیرآئینی تھی۔انڈیا میں گزشتہ کئی برسوں میں ایسے مقدمات سامنے آئے ہیں جن میں فیس بک اور ٹوئٹر پر اظہار رائے کی بیناد پر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد حکومت کی بے حد تنقید ہوئی تھی۔

حکومت نے اس قانون کا یہ کہ کر دفاع کیا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کو انٹرنٹ پر قابل اعتراض مواد شائع کرنے سے روکنا ہے۔عدالت میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور دہلی یونیورسٹی کے بعض طلباء نے عرضی دائر کی تھی اور اپنی عرضی میں کہا تھا کہ یہ دفعہ اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے جسٹس آر ایف نریمن کے حوالے سے کہا ہے ’دفعہ 66 اے غیر آئینی ہے اور ہمیں اس کو ختم کرنے میں کوئی ہچکچہاٹ نہیں ہے۔

‘ان کا مزید کہنا تھا ’اس دفعہ سے لوگوں کے اطلاعات کے حصول کا حق براہ راست متاثر ہوتا ہے۔‘انڈیا میں بیشتر عوام نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس دفعہ کے تحت پولیس کو لامحدود اختیارات حاصل تھے۔ پولیس کسی بھی شخص کو صرف اس بنیاد پر گرفتار کرسکتی تھی کہ ان کے ذریعے انٹرنٹ پر شائع کیے پیغام یا ای میل سے کسی کو ’ تکلیف پہنچی ہے یا ناراضگی‘ ہوئی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

25-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان