امریکہ کی جاسوسی کے الزامات غلط ہیں، اسرائیل
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

تلاش کیجئے

امریکہ کی جاسوسی کے الزامات غلط ہیں، اسرائیل

مقبوضہ بیت المقدس (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔25 مارچ۔2015ء)اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ کہہ کر امریکی انتظامیہ کو ناراض کیا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوگئے تو آزاد فلسطینی ریاست کو نہیں بننے دیں گے اسرائیل نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی سربراہی میں والے مذاکرات کی جاسوسی کی تھی اور ان خفیہ معلومات کو امریکی قانون سازوں کے حوالے کیا تھا۔

اسرائیل کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کی جاسوسی کے حوالے سے وال سٹریٹ جنرل میں چھپنے والی خبر ’بلکل جھوٹی‘ ہے۔وال سٹریٹ جنرل میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ اس پر بہت ناراض ہے کہ اسرائیل نے ان معلومات کو امریکہ کے قانون سازوں کے حوالے کرنے کی کوشش کی۔امریکی کانگریس کے ریپبلکن پارٹی کے کئی اراکان ایران کیساتھ جوہری پروگرام کیمعاہدے کے مخالف ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو نے امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے راستے پرگامزن کر دے گا۔امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی معاہدے پر پہچنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے تحت ایران پر اقتصادی پابندیاں نرم ہو سکیں گی۔ عالمی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اسرائیل ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا حصہ نہیں ہے لیکن وہ ایران کے جوہری پروگرام سے بہت خوفزدہ ہے۔وال سٹریٹ جنرل میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق کہ اسرائیل نے پچھلے برس مذاکرات کی خفیہ سن گن لینی شروع کر رکھی تھی اور اس نے یورپ میں امریکی اہلکاروں کو ملنے والی خفیہ بریفنگ تک بھی رسائی حاصل کر لی تھی۔امریکہ کو اسرائیل کی کارروائیوں کے حوالے سے اس وقت پتہ چلا جب امریکی انٹیلجنس نے کچھ ایسے اسرائیلی پیغامات کو سنا جو صرف بندکمرے میں ہونے والی بات چیت تک رسائی کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔

اسرائیل کی طرف سے ان معلومات کو امریکی قانون سازوں کے حوالے کرنے پر امریکی وائٹ ہاوٴس کو خاص طور پر برا لگا۔وال سٹریٹ جنرل نے ایک سینیئر امریکی اہلکار کے حوالے سے لکھا: ’امریکہ اور اسرائیل کا ایک دوسرے کی جاسوسی کرنا ایک چیز ہے لیکن سفارت کاری کو ناکام کرنے کے لیے امریکہ کے خفیہ رازوں کو چوری کر کے امریکی قانون سازوں تک پہنچانا بلکل مختلف عمل ہے۔‘اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ الزامات بلکل جھوٹے ہیں۔

اسرائیل کے سینیئر اہلکار نے کہا کہ اسرائیل امریکہ اور اپنے دوسری اتحادیوں کی جاسوسی نہیں کرتا۔یہ جھوٹے الزامات اسرائیل اور امریکہ کے قریبی تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔‘یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی جب وائٹ ہاوٴس اور اسرائیل کے مابین تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ کہہ کر امریکی انتظامیہ کو ناراض کیا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوگئے تو وہ آزاد فلسطینی ریاست کو نہیں بننے دیں گے۔

25-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان