تیونس، عجائب گھر حملہ، 6 اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار برطرف
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
پچھلی خبریں -

تلاش کیجئے

تیونس، عجائب گھر حملہ، 6 اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار برطرف

تیونسیا (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔24 مارچ۔2015ء)تیونس کے وزیراعظم حبیب الصید نے دارالحکومت میں معروف عجائب گھر پر مسلح دہشت گردوں کے حملے کے بعد چھے اعلیٰ سکیورٹی عہدے داروں کو برطرف کردیا ہے۔ان میں سیاحوں کی سکیورٹی کے ذمے دار ادارے کا سربراہ بھی شامل ہے۔تیونسی حکومت کے ترجمان مفدی مسدی نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ برطرف کیے گَئے عہدے داروں میں انٹیلی جنس بریگیڈز کا سربراہ ،تیونس کا ڈسٹرکٹ پولیس چیف ،ٹریفک پولیس کا کمانڈر ،باردو کا سکیورٹی سربراہ اور دارالحکومت کے علاقے سیدی بشیر کا کمانڈر شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ''وزیراعظم حبیب الصید نے گذشتہ روز (اتوار کو) کو باردو عجائب گھر کا دورہ کیا تھا اور وہاں سکیورٹی کی ناکامیوں کا جائزہ لیا تھا''۔صدر الباجی قائد السبسی نے بھی سکیورٹی کی ناکامی کو عجائب گھر پر دہشت گردوں کے حملے کی بڑی وجہ قرار دیا تھا۔صدرالسبسی نے اتوار کو فرانسیسی ٹیلی ویڑن کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''دارالحکومت میں گذشتہ بدھ کو معروف عجائب گھر پر حملے میں ملوّث تیسرا مشتبہ حملہ آور ابھی تک مفرور ہے۔

اس حملے میں دو نہیں، تین افراد ملوّث تھے۔نگرانی کے کیمروں سے ان کی فلم بنی تھی اور ان کی شناخت کرلی گئی ہے۔ان میں سے دو حملہ آور مارے گئے تھے اور تیسرا مفرور

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

24-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان