مصر، ایتھوپیا اور سوڈان کا دریائے نیل پر معاہدہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
تاریخ اشاعت: 2015-03-24
پچھلی خبریں -

تلاش کیجئے

مصر، ایتھوپیا اور سوڈان کا دریائے نیل پر معاہدہ

خرطوم (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔24 مارچ۔2015ء)افریقہ کے تین ممالک نے دریائے نیل کے پانی کی تقسیم اور ایتھوپیا میں بجلی بنانے کے لیے بڑے ڈیم کے ایک لمبے عرصے سے جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے ابتدائی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔مصر، ایتھوپیا اور سوڈان کے رہنماوٴں نے سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں معاہدے پر دستخط کیے۔مصر نے ایتھوپیا کے ڈیم کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ اس سے اس کا پانی کی کمی کا مسئلہ اور بھی گھمبیر ہو جائے گا۔

ایتھوپیا نے کہا کہ ڈیم سے اس کو دریائے نیل کے پانی کا منصفانہ حصہ ملے گا۔سنہ 2013 میں ایتھوپیا کی پارلیمان نے نو آبادیاتی دور کے اس متنازع معاہدے کی توثیق کی تھی جس کے تحت مصر اور سوڈان کو نیل کے پانی کا بڑا حصہ ملتا تھا۔اس وقت کے مصر کے صدر محمد مرسی نے کہا تھا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن ڈیم کی وجہ سے مصر کو ملنے والی پانی کی سپلائی کو خطرے میں ڈالنے نہیں دیں گے۔مرسی کے بعد آنے والے صدر عبدالفتح السیسی نے ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم ہائیلِ مریم دیسلین اور سوڈان کے صدر عمر البشیر کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔

خرطوم کے ریپبلیکن پیلس میں تینوں رہنماوٴں نے معاہدے کا خیر مقدم کیا اور گرینڈ رینیساں ڈیم کے متعلق ایک مختصر سی فلم دیکھی کہ اس سے کس طرح خطے کو فائدہ ہو سکتا ہے۔سیسی نے کہا کہ یہ پراجیکٹ اب بھی مصر کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ایتھوپیا نے 2013 میں اس دریا سے ایک نہر نکال کر مصر کو حیران کر دیا تھا ۔انھوں نے کہا کہ ’رینیساں ڈیم پراجیکٹ لاکھوں ایتھوپیائی عوام کے لیے ترقی کا منبع نظر آتا ہے جس سے سبز اور پائیدار توانائی پیدا ہو گی جبکہ مصر میں دریائے نیل کے کنارے رہنے والے ان کے بھائیوں کے لیے جن کی تعداد تقریباً ان کے برابر ہی ہے، یہ تشویش اور پریشانی کا باعث ہے۔

‘ایتھوپیا چاہتا ہے کہ 1929 کا برطانیہ کا بنایا ہوا معاہدہ جس میں دریائے نیل کے بالائی رخ پر بنائے گئے کسی بھی پراجیکٹ کو ویٹو کرنے کا اختیار مصر کے پاس تھا بدل دیا جائے۔ایتھوپیا کا کہنا ہے کہ 4.7 ارب ڈالر سے بننے والا ڈیم اسے 6,000 میگا واٹ بجلی دے گا۔مصر کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب ایتھوپیا نے 2013 میں دریائے نیل سے ایک شاخ نکال لی۔ایتھوپیا کہتا ہے کہ اس سے دریا کا رخ تھوڑا بہت مڑے گا لیکن پھر وہ اپنے قدرتی بہاوٴ پر واپس آ جائے گا۔2013 میں مصر کے سیاستدانوں کو ڈیم پر فوجی کارروائی کی تجویز دیتے ہوئے بھی سنا گیا تھا۔لیکن ایتھوپیا کو اس کے دیگر ہمسایہ افریقہ ممالک کی، جیسا کہ روانڈا، تنزانیہ، یوگنڈا، کینیا اور برنڈی، مکمل حمایت حاصل ہے۔

24-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان