سیاست اور بھتہ خوری ایک جگہ نہیں چل سکتی،سراج الحق ،جلد جوڈیشل کمیشن تشکیل دیکر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
پچھلی خبریں -

پشاور

تلاش کیجئے

سیاست اور بھتہ خوری ایک جگہ نہیں چل سکتی،سراج الحق ،جلد جوڈیشل کمیشن تشکیل دیکر کراچی کے جعلی مینڈیٹ کو ختم کیا جائے،عوامی امنگوں کے مطابق نمائندوں کو سامنے لایا جائے،کراچی کی ترقی کے لئے پانچ سو بلین کا پیکج دیا جائے ۔ بلوچستان آتش فشاں بن چکا ہے ،وہاں کے مرد اور نوجوان پہاڑوں اور غاروں میں چلے گئے ہیں،خواتین احتجاج کررہی ہیں، حالات ٹھیک کرنے کی خاطر سیاسی جرگہ تشکیل دینے کے لئے تیار ہیں،عالمی طاقتیں اور ایک یورپی ملک ایم کیو ایم کے ساتھ حکومت کی صلح کرواناچاہتا ہے صوبہ خیبر پختونخوا اسلامی انقلاب کا مرکز ثابت ہوگا،ظالموں کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کے لئے مظلوموں کو اکھٹا کررہے ہیں ، دوروزہ تربیت گاہ سے اختتامی خطاب

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔23 مارچ۔2015ء)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ سیاست اور بھتہ خوری ایک جگہ نہیں چل سکتی۔ اگر بے گناہ لوگوں کے قاتلوں پر پردہ ڈالا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس قتل و غارت گری میں ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کی بیوروکریسی بھی شامل ہے ۔ بین الاقوامی طاقتیں اور ایک یورپی ملک ایم کیو ایم کے ساتھ حکومت کی صلح کرواناچاہتا ہے لیکن ہم ملک میں کسی دوسرے ملک ، سی آئی اے، راء اور کے جی بی کی سیاست تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔

جلد جوڈیشل کمیشن تشکیل دے کر کراچی کے جعلی مینڈیٹ کو ختم کیا جائے اور عوامی امنگوں کے مطابق نمائندوں کو سامنے لایا جائے۔ لوگوں کی قاتل اور بھتہ خور جماعت کو اقتدار میں شریک کرنے والی سیاسی جماعت بھی ان کے جرائم میں برابر کی شریک ہے۔ کراچی میں آپریشن کے ساتھ ساتھ ترقی اور تعمیر نو بھی ہونی چاہئے۔کراچی کی ترقی کے لئے پانچ سو بلین کا پیکج دیا جائے ۔ بلوچستان آتش فشاں بن چکا ہے ۔وہاں کے مرد اور نوجوان پہاڑوں اور غاروں میں چلے گئے ہیں اور خواتین احتجاج کررہی ہیں۔

حالات ٹھیک کرنے کی خاطر سیاسی جرگہ تشکیل دینے کے لئے تیار ہیں۔ اپریل میں رابطہ عوام مہم کا آغاز کررہے ہیں۔ ایک کروڑ نئے ووٹرز کا اضافہ کر یں گے۔ صوبہ خیبر پختونخوا اسلامی انقلاب کا مرکز ثابت ہوگا۔ روٹی ، کپڑا ، مکان اور کسان و مزدور کے کھوکھلے نعروں کو عوام پہچان چکے ہیں۔ عوام غربت، مہنگائی اور لوٹ مار سے نالاں ہیں ۔ سیاسی پنڈتوں نے آزادی کی منزل دور کردی ہے ۔ حکمران نظریہ پاکستان سے غداری کرررہے ہیں۔

اس وقت ملک میں مسلح دہشت گردی کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی دہشتگردی بھی جاری ہے ۔ ظالموں اور مظلوموں کی لڑائی جاری ہے ۔ ظالموں کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کے لئے مظلوموں کو اکھٹا کررہے ہیں۔ وہ اتوار کے روز المرکز اسلامی پشاور میں جماعت اسلامی کے ضلعی ، ایجنسیز ، زونل و مقامی امراء اور سیکرٹریز کی دوروزہ تربیت گاہ سے اختتامی خطاب کررہے تھے۔ تربیت گاہ سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان ، نائب امراء مولانا محمد اسماعیل، مشتاق احمد خان، الخدمت فاوٴنڈیشن کے صوبائی صدر نورالحق اور سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے بھی خطاب کیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کراچی کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے۔ جن لوگوں سے نیٹو کا اسلحہ برآمد ہوا ہے، جو صحافیوں کے قاتل ہیں، جنہوں نے معصوم لوگوں کو زندہ جلایا ہے اور سلفیورک ایسڈ کے ڈرموں میں ڈال کر ان کا نام و نشان مٹا ڈالا اور جن کے کارکن خود اپنے جرائم کا اقرار کررہے ہیں، اب کراچی کے عوام کو ان سے نجات ملنی چاہئے ۔اب وہ لوگ کراچی کے گلی کوچوں میں نظر نہیں آتے اور منہ چھپائے پھرتے ہیں۔

کراچی میں آپریشن کے ساتھ ساتھ ترقی کی بھی ضرورت ہے۔ حکومت کراچی کے لئے ایک بڑے امدادی پیکج کا اعلان کرے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ان سیاسی پارٹیوں پر افسوس ہوتا ہے جو نیٹو کا اسلحہ چرانے والوں ، صحافیوں اور عوام کو قتل کرنے والوں اور خود اپنے جرائم کا اعتراف کرنے والوں کو اقتدار میں شریک کرتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہیں ۔ سیاست ،پارٹی اور مفادات سے بالاتر ہوکر مجرموں پر ہاتھ ڈالا جائے۔

یہ حکومت کا امتحان ہے ، اکیسویں آئینی ترمیم اور عدلیہ کی آزادی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

23-03-2015 :تاریخ اشاعت