پاکستان بد ترین حالات سے دوچار ہے، دہشتگردی ،طبقاتی نظام ‘ سیاسی کرپشن ‘ اختیارات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
تاریخ اشاعت: 2015-03-23
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

تلاش کیجئے

پاکستان بد ترین حالات سے دوچار ہے، دہشتگردی ،طبقاتی نظام ‘ سیاسی کرپشن ‘ اختیارات کا ناجائز استعمال ‘ مہنگائی ‘ بیروزگاری کے باعث لوگ مایوس ہوچکے ہیں،پرویز مشرف،مستقبل کے ساتھ پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے بھی مشکوک ہیں، اسی وجہ سے سرمایہ دار ‘تعلیم یافتہ ‘ ہنر مند اور نوجوان طبقہ پاکستان کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں،چیئرمین اے پی ایم ایل کا خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔23 مارچ۔2015ء)آل پاکستان مسلم لیگ(اے پی ایم ایل) کے چیئرمین پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان اس وقت بد ترین حالات سے دوچار ہے اور دہشتگردی کے علاوہ طبقاتی نظام ‘ سیاسی کرپشن ‘ اختیارات کے ناجائز استعمال ‘ مہنگائی ‘ بیروزگاری ‘ توانائی بحران اور زندگی گزارنے کی سہولیات کے فقدان کے باعث لوگ نہ صرف مایوس ہوچکے ہیں بلکہ مستقبل کے ساتھ پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے بھی مشکوک ہیں، یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دار ‘تعلیم یافتہ ‘ ہنر مند اور نوجوان طبقہ پاکستان کو چھوڑ کر بھاگ رہا ہے جوکسی بھی طور پاکستان کے مستقبل کیلئے نیک شگون نہیں ہے ۔

پرویز مشرف کی صدارت میں کراچی کے مقامی ہوٹل میں ہونے والے آل پاکستان مسلم لیگ کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے دوروزہ مشترکہ اجلاس منعقد ہوا ۔ مرکزی سینئر نائب صدر و سیکریٹری انفارمیشن میجر جنرل (ر) راشد قریشی نے بیرونی قوتوں کی تخریب کاری سے پاکستان کو بچانے کیلئے متحد ہوکر سیسہ پلائی دیوار کا کردار ادا کرنے ‘ دہشتگردی کے خاتمے کے ہر مثبت اقدام اور دہشتگردی کی بیخ کنی کیلئے افواج پاکستان کے کردار کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشتگردی کے تمام شہدأ کیلئے دعا و خراج تحسین اور ان کی لواحقین سے اظہار یکجہتی کی قرارداد پیش کی ۔

قراردادوں کی منظوری کے بعد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اے پی ایم ایل کے چیئرمین پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان اس وقت بد ترین حالات سے دوچار ہے اور دہشتگردی کے علاوہ طبقاتی نظام ‘ سیاسی کرپشن ‘ اختیارات کے ناجائز استعمال ‘ مہنگائی ‘ بیروزگاری ‘ توانائی بحران اور زندگی گزارنے کی سہولیات کے فقدان کے باعث لوگ نہ صرف مایوس ہوچکے ہیں بلکہ مستقبل کے ساتھ پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے بھی مشکوک ہیں یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دار ‘تعلیم یافتہ ‘ ہنر مند اور نوجوان طبقہ پاکستان کو چھوڑ کر بھاگ رہا ہے جوکسی بھی طور پاکستان کے مستقبل کیلئے نیک شگون نہیں ہے یہ صورتحال میرے لئے انتہائی تکلیف کا باعث تھی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ مملکت خداداد قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور اس کے عوام انتہائی محنتی و محب وطن ہیں اگر درست منصوبہ بندی اور دیانتداری کے ساتھ قومی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے تعلیم ‘ صحت کی سہولیات اور روزگار کی فراہمی کیلئے ان وسائل کو استعمال کیا جائے تو ملک کے غریب عوام کو بھی خوشحال بنایا جاسکتا ہے مگر اس کیلئے معیشت ‘ ذراعت ‘ تجارت ‘ صنعت ‘ توانائی ‘ تعلیم سمیت ہر شعبے کی اصلاح و بہتری کی ضرورت ہے جس کیلئے حکومت کی تبدیلی اور آئینی ترامیم کے ساتھ ایسی دیانتدار قیادت بھی ضروری ہے جو ملک و قوم سے مخلص ہونے کے ساتھ بین الاقوامی شہرت وتعلقات اور سیاسی تدبر کے ساتھ قومی معاملات پر کی مکمل آگہی وشعور کی حامل بھی ہوا سی لئے میں تمام تر سیکورٹی خدشات اور مجھ پر مجھ پر جھوٹے و انتقامی کیسز کی بھرمار کے باوجود 23مارچ 2013ء کو میں پاکستان واپس آیاتاکہ تبدیلی کی خواہشمند محب وطن و عوام دوست قوتوں کے اتحاد سے ایسی تیسری سیاسی قوت بنائی جائے جو اس ملک و قوم کا خطرات و پریشانیوں سے نجات دلانے کیلئے اپنا دیانتدارانہ وذمہ دارانہ کردار ادا کرے اسی مقصد کیلئے آل پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی مگر انتقامی کاروائیوں اور قانونی موشگافیوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

23-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان