لاہور، ینگ ڈاکٹرز نے مطالبات کے حق میں 31مارچ کو لاہور کا پہیہ جام کرنے کا اعلان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
-

لاہور

تلاش کیجئے

لاہور، ینگ ڈاکٹرز نے مطالبات کے حق میں 31مارچ کو لاہور کا پہیہ جام کرنے کا اعلان کردیا

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔22 مارچ۔2015ء) ینگ ڈاکٹرز نے31مارچ کو لاہور کا پہیہ جام کرنے کا اعلان کردیا۔ ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی اور محکمہ کی جانب سے سرجیکل ٹاور، نیورو انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز،آؤٹ ڈور سروسز ہسپتال، چلڈرن ہسپتال کا توسیعی منصوبہ سمیت بغیر تنخواہ کے پی جی ٹرینی کے بڑے مسائل شامل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر عامر بندیشہ، ڈاکٹر تجمل بٹ، ڈاکٹر خرم شہزاداور ڈاکٹر شبیر احمد سمیت دیگر جناح ہسپتال لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر عامر بندیشہ کا کہنا ہے کہ پورے پنجاب کے اندر1200پی جی ٹرینی ڈاکٹرز بغیر تنخواہ کے کام کررہے ہیں اور اب محکمہ صحت پنجاب نے ڈسٹرکٹ سے تنخواہ حاصل کرنے300پی جی ترنینز کی تنخواہیں بھی بند کردی ہیں جو ایک قابل افسوس امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی نکالی جانے والی10ہزار سے سیٹیں ایک گورکھ دھندہ ہیں جنہیں عام آدمی نہیں سمجھ سکتا۔ محکمہ صحت نے ہمیشہ17سکیل کے ڈاکٹروں کی آسامیاں پیدا کی ہیں جس کی بڑی مثال گورنمنٹ شاہدرہ ہسپتال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آسامیاں پید ا کرنے کے لئے چار درجاتی فارمولا پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل آفیسر کی بنیادی بھرتی کا آغاز سکیل18سے کیا جائے اور میڈیکل آفیسر کی بنیادی تنخواہ کم از کم90ہزار کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت 6ہزار سے زائد ڈاکٹرز ترقی کے منتظر ہیں اور اسی انتظار میں وہ ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ نے اپنے وعدے کے برعکس ابھی تک سروس سٹریکچر پر عمل درآمد کرتے ہوئے صرف20فیصد ڈاکٹروں کی پرموشن کی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ 20سالوں سے ڈینٹل کیڈر کی پرموشن ہی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی سیکیورٹی کی صورت حال بھی خراب ہے کوئی بھی شخص خود کش جیکٹ پہن کر بآسانی ہسپتال میں داخل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے ہسپتالوں کے اندر مذکورہ بیان کی گئیں عمارتیں اور منصوبے تاخیر کا شکار ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی سے مریض پریشان ہیں یہاں تک کہ لیبر روم میں بھی میڈیسن فری نہیں ہیں۔ شیخ زاید ہسپتال پنجاب گورنمنٹ میں آنے کے باوجود ایمرجنسی میں بھی فیس وصول کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ20فیصد صحت کی ذمہ داری کو بھی پورا نہیں کررہی ہے اور موجودہ صورتحال گورنمنٹ کی گڈ گورنس کے منہ پر بہت بڑا طمانچہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پنجاب حکومت سے ہاتھ باندھ کر استدعا ہے کہ ہمارے اور مریضوں کے مطالبات پورے کریں ورنہ ہم31مارچ2015کو پنجاب سمیت پورا لاہور جام کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جناح ہسپتال اور شیخ زاید کے ڈاکٹرز کینال روڑ بلاک کریں گے۔ گنگا رام ہسپتال اور میو ہسپتال کے ڈاکٹرز مال روڑ بند کریں گے، چلڈرن ہسپتال اور لاہور جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز فیروز پور روڑ جبکہ سروسز اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز جیل روڑ بلاک کریں گے اور یہ سلسلہ تین ہفتوں تک جاری رہے گا اس کے بعد سپریم کونسل کا اجلاس بلا کر کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا اور اگر گورنمنٹ نے کوئی شر پھیلانے کی کوشش کی تو اس کا انجام برا ہوگا۔

22-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان