بھارت، امتحانات میں نقل کرنے پر سینکڑوں گرفتار، گرفتار شدگان میں زیادہ تر والدین ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
تاریخ اشاعت: 2015-03-22
پچھلی خبریں -

تلاش کیجئے

بھارت، امتحانات میں نقل کرنے پر سینکڑوں گرفتار، گرفتار شدگان میں زیادہ تر والدین شامل، کم سے کم 750 طلبا کے داخلے منسوخ

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔22 مارچ۔2015ء)بھارت کی ریاست بہار میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں امتحانات میں نقل کرنے کی خبریں منظرِ عام پر آنے کے بعد300 کے قریب افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر والدین ہیں جس کے بعد کم سے کم 750 طلب علموں کے داخلے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 14 لاکھ طالب علم صرف بہار میں امتحانات دے رہے ہیں اور جس طرح وہ امتحان دیتے ہوئے دیکھے گئے ہیں ان کا اپنی زندگی میں کامیاب ہونا مشکل ہے۔

بی بی سی کے مطابق سوشل میڈیا پر امتحانات میں نقل کی خبروں کی نشاندہی حکام کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں۔طلبا کو باہر سے دیے گئے مواد پر سے نقل کرتے دیکھا گیا تھا جبکہ امتحانی سینٹر کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں کو دوسری جانب دیکھنے کے لیے رشوت لیتے بھی دیکھا گیا۔چار سینٹرز میں گرفتاریوں کے بعد امتحانات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے نقل کرنے کے اس واقع کی مذمت تو کی ہی لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر ان کی ریاست کی مکمل کہانی نہیں ہیں۔

انھوں نے نقل کروانے والے والدین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا عمل بعد میں صرف انہی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ریاست کے وزیرِ تعلیم پی کے شاہی کا کہنا ہے کہ والدین کی مدد کے بغیر شفاف امتحانات کروانا بہت مشکل ہے۔اس واقع میں ملوث افراد کی تعداد بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ نقل کرنے میں ایک طالب علم کی تین سے چار لوگ مدد کر رہے تھے جس کا مطلب ہے چھ سے سات لاکھ لوگوں نے نقل کرنے میں مدد کی ہے۔

‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ کیا صاف اور شفاف امتحانات کروانے کے لیے اتنے زیادہ لوگوں کو روکنا صرف حکومت کی ہی ذمہ داری بنتی ہے؟‘ بہار میں سکینڈری سکول کے امتحان کے دوران طالب علموں کے دوست اور یہاں تک کہ ان کے والدین دیواریں پھلانگ کر انھیں سوالات کے جوابات اور نقل میں مدد دینے والا دیگر مواد پہنچاتے نظر آتے ہیں۔مقامی اخبارات ایسی تصاویر سے بھرے پڑے ہیں جس میں والدین اپنے بچوں کو نقل کرنے میں مدد دے رہے ہیں اور اس کوشش میں بعض تو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بہار کے وزیر تعلیم پی کے شاہی نے کہا تھا کہ حکومت نقل روکنے میں کیا کر سکتی ہے اگر والدین اور رشتہ دار تعاون کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ کیا حکومت ان کو گولی مارنے کے احکامات جاری کرے۔خیال رہے کہ پاکستان میں بھی امتحانات میں نقل کا مسئلہ موجود ہے۔ حال ہی میں بلوچستان حکومت نے صوبے میں نقل کے رجحان کو ختم کرنے کے حوالے سے خصوصی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان کے بڑے شہروں میں نقل کی روک تھام کے لیے خاصی سختی کی جاتی ہے تاہم چھوٹے شہروں میں امتحانات کے دوران نقل کرنے کے واقعات اب بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔

22-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان