اقوامِ متحدہ نے سمندری حدود میں اِضافے کا پاکستانی دعویٰ تسلیم کر لیا،پاکستان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-21
تاریخ اشاعت: 2015-03-21
تاریخ اشاعت: 2015-03-21
تاریخ اشاعت: 2015-03-21
تاریخ اشاعت: 2015-03-21
تاریخ اشاعت: 2015-03-21
تاریخ اشاعت: 2015-03-21
تاریخ اشاعت: 2015-03-21
تاریخ اشاعت: 2015-03-21
پچھلی خبریں -

کراچی

تلاش کیجئے

اقوامِ متحدہ نے سمندری حدود میں اِضافے کا پاکستانی دعویٰ تسلیم کر لیا،پاکستان کی سمندری حدود200ناٹیکل میل سے بڑھ کر 350ناٹیکل میل ہوگئی،پاکستان کو ملنے والے اس اِضافی کونٹینینٹل شیلف کے تہہ سمندر اور اُس کے نیچے پائے جانے والے وسائل پر مکمل اِختیار ات حاصل ہو گا ،اقوامِ متحدہ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔21 مارچ۔2015ء) 19مارچ 2015کو اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے سمندری حدودنے اپنا جائزہ مکمل کیا اور سمندری حدود میں اِضافے کا پاکستانی دعویٰ تسلیم کر لیا ہے جس کے تحت پاکستان کی سمندری حدود200ناٹیکل میل سے بڑھ کر 350ناٹیکل میل ہوگئی ہیں۔اس طرح پاکستان کے موجودہ240,000مربع کلو میٹرخصوصی اقتصادی زون (Exclusive Economic Zone) کے علاوہ پچاس ہزار مربع کِلو میٹر کا اِضافی کونٹینینٹل شیلف(Continental Shelf) پاکستان کے زیرِ انتظام آگیا ہے۔

پاکستان کو ملنے والے اس اِضافی کونٹینینٹل شیلف کے تہہ سمندر اور اُس کے نیچے پائے جانے والے وسائل پر مکمل اِختیار ات حاصل ہوں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک قابلِ تعریف کامیابی ہے کہ ہم اپنے سمندری علاقے میں پائے جانے والے بے پناہ قدرتی وسائل کے حصول سے وسیع معاشی فوائد حاصل کر سکیں گے۔ یہ پوری قوم کے لئے ایک قابلِ فخر لمحہ ہے کیونکہ پاکستان یہ کامیابی حاصِل کرنے والا خِطے کا پہلا مُلک ہے۔

بین الاقوامی سمندری قوانین کا آرٹیکل 76ساحلی ممالک کو کونٹینینٹل شیلف 200سوناٹیکل میل سے بڑھا نے کی اِجازت دیتا ہے۔ تاہم ساحلی مُلک کو اقوام متحدہ کمیشن برائے سمندری حدود کے سامنے تکنیکی اعدادوشمار اور مواد کے ذریعے اپنا کیس ثابت کرنا پڑتا ہے، یہ کمیشن ہائیڈرو گرافی، جیوفزکس، جیولوجی اور دِیگر متعلقہ شعبہ جات کے 21ماہرین پر مشتمل ہوتاہے۔ پاکستان کو بھی اِس تنظیم میں نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔

پاک بحریہ کے ہائیڈروگرافر کموڈور محمد ارشد اِس کمیشن کے رُکن ہیں۔ پاکستان کی سمندری حدود میں اِضافے کا منصوبہ 2005ء میں پاک بحریہ اور نیشنل اِنسٹی ٹیوٹ آف ہائیڈروگرافی نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی سر پرستی کے ساتھ مشترکہ طور پر شروع کیا۔ 4سال کی انتھک محنت اورضخیم اعدادوشمارجمع کرنے اور ان کی جانچ پڑتال کے بعد 30اپریل 2009کو یہ کیس اقوام متحدہ کے کمیشن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

21-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان