لانگ مارچ اور دھرنا کے دوران کریک ڈاؤن سے انکار کرنے والے پولیس آفیسر کو فارغ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-20
تاریخ اشاعت: 2015-03-20
تاریخ اشاعت: 2015-03-20
تاریخ اشاعت: 2015-03-20
تاریخ اشاعت: 2015-03-20
تاریخ اشاعت: 2015-03-20
تاریخ اشاعت: 2015-03-20
تاریخ اشاعت: 2015-03-20
تاریخ اشاعت: 2015-03-20
تاریخ اشاعت: 2015-03-20
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

لانگ مارچ اور دھرنا کے دوران کریک ڈاؤن سے انکار کرنے والے پولیس آفیسر کو فارغ کرنے پر غور

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔20 مارچ۔2015ء) حکومت نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے لانگ مارچ اور دھرنا شرکاء پر کریک ڈاؤن سے انکار کرنے والے پولیس آفیسر کو فارغ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق دھرنا مارچ کے دوران سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ( ایس ایس پی ) جو کہ اس وقت آپریشنز کے ذمہ دار تھے اور انہوں نے مارچ کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیا تھا تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے انکوائری مکمل کر لی ہے جس میں اس پر ایک سینئر آفیسر کو احکامات نہ ماننے کا الزام تھا ۔

اگست 2014 کے آخری ہفتے میں جب عوامی تحریک اور تحریک انصاف نے پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کا اعلان کیا تو وزارت داخلہ نے چودھری نثار کی زیر قیادت عمران خان اور طاہر القادری کو طاقت سے روکنے یا ان کو سیکیورٹی زون میں داخلے سنجیدگی سے سوچا تھا رپورٹ کے مطابق زمینی آپریشن کے ذمہ دار ایک آفیسر محمد علی نیکوکارا نے سیکرٹری داخلہ شاہد خان کو خط لکھا جس میں انہوں نے طاقت کے استعمال سے گریز پر زور دیا اپنے خط میں انہوں نے ماڈل ٹاؤن واقعہ کا ذکر کیا جس میں کئی بے گناہ لوگ مارے گئے تھے ۔

20-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان