سویڈش وزیرخارجہ کے سعودی عرب کے خلاف ریمارکس پر سخت احتجاج، ابوظبی میں سویڈش سفیر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

تلاش کیجئے

سویڈش وزیرخارجہ کے سعودی عرب کے خلاف ریمارکس پر سخت احتجاج، ابوظبی میں سویڈش سفیر کی طلبی

ابوظہبی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔19 مارچ۔2015ء)متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ابوظبی میں متعیّن سویڈش سفیر کو طلب کر کے ان سے سویڈن کی وزیرخارجہ کے سعودی عرب کے خلاف حالیہ جارحانہ بیانات پر سخت احتجاج کیا ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔یواے ای کے وزیرمملکت برائے امور خارجہ انور محمد جرجیش نے ایک بیان میں سویڈن کی وزیرخارجہ کی جانب سے سویڈش پارلیمان میں سعودی عرب اور اس کے نظام عدل کے خلاف اشتعال انگیز بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ ''یہ بیانات خودمختاری کے اصول کے منافی ہیں جن کے تحت دو ریاستوں کے درمیان معمول کے تعلقات استوار ہوتے ہیں۔ یہ سعودی عرب کے داخلی امور میں کھلی مداخلت ہیں اور ان میں ملکوں اور معاشروں کی مذہبی اور ثقافتی خصوصیات کا بھی احترام نہیں کیا گیا''۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے گذشتہ ہفتے سویڈش وزیرخارجہ مرگوٹ وال سٹروم کے ریمارکس کی مذمت کی تھی۔

مس مرگوٹ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تنقید کی تھی۔جی سی سی نے گذشتہ جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''یہ بیانات سعودی مملکت کے داخلی امور میں ننگی مداخلت ہیں''۔سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے اسٹاک ہوم میں متعیّن اپنے سفیر کو سویڈش وزیرخارجہ کے بیانات کے خلاف احتجاج کے طور پر واپس بلا لیا تھا اور سویڈن پر اپنے داخلی امور میں ننگی مداخلت کا الزام عاید کیا تھا۔سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے وزارت خارجہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ ''سویڈش وزیرخارجہ کے سعودی مملکت کے خلاف جارحانہ ریمارکس کے بعد سفیر کو (احتجاج کے طور پر) واپس بلایا گیا ہے اور سعودی عرب سویڈش وزیرخارجہ کے بیان کو اپنے داخلی امور میں ننگی مداخلت سمجھتا ہے''۔

اس ذریعے کا کہنا تھا کہ ''سویڈش وزیرخارجہ کے ریمارکس بین الاقوامی کنونشنوں اور سفارتی اقدار وآداب کے منافی ہیں اور ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات سے بھی کوئی لگا نہیں کھاتے ہیں''۔

19-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان