افغان طالبان سے مذاکرات، افغان حکومت نے بہت بڑا فیصلہ کر لیا ۔۔۔ افغان طالبان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

تلاش کیجئے

افغان طالبان سے مذاکرات، افغان حکومت نے بہت بڑا فیصلہ کر لیا ۔۔۔ افغان طالبان نے بھی اپنے نام تیار کر لیے

پشاور ( رحمت اللہ شباب ۔اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔19 مارچ۔2015ء) افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین ہو نے والے اس ماہ کے آخر میں مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ افغان حکومت طالبان کو مشرقی افغانستان میں چار جبکہ جنوبی میں دو صوبوں کی گورنری دینے پر رضامند ہو گیا ہے جبکہ مرکز میں حزب اسلامی افغانستان کے لیڈر گل بدین حکمتیار کو اہم عہدہ دینے پر بھی اتفاق رائے ہو گیا ہے ۔ افغان حکومت میں شامل اہم ذرائع نے نام کو صیغہ راز میں رکھنے کی اپیل پر بتا یا ہے کہ مذاکرات کے بعد طالبان دور کے پاکستان میں سابق سفیر رحمت اللہ اکازئی ، طالبان دور کے امر بالمعروف محکمہ کے انچارج مولوی حلیم خان تنی وال ، گذشتہ سال پاکستانی جیل سے رہائی پا نے والے اہم طالبان رہنماء ملا برادر اور حال ہی میں گونتا نامو بے سے رہائی پانے والے مولوی عبدالولی طالبان کو دئے گئے صوبوں میں گورنر ہوسکتے ہیں ۔

ذرائع کے بقول افغان حکومت کی طرف سے مذکرات کیلئے سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے صاحبزادے صلاح الدین ربانی کو مکمل اختیار دیا گیا ہے جن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے گشتہ ماہ خیلجی ممالک میں مقیم اہم افغان طالبان رہنماؤوں سے مذکرات مکمل کئے ہیں اور دونوں طرف سے رضامندی کا اظہار بھی ہو چکا ہے جبکہ اس وقت وہ جنوبی افغانستان میں طالبان قیادت کے ساتھ مشاورت کے عمل میں مصروف ہیں اور ساتھ ہی افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بھی مشاور ت لیتے رہتے ہیں ۔

یہ بھی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ افغانستان میں ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد صلاح الدین ربانی پاکستان کا دورہ کرینگے جس میں وہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزین رہنماؤں اور پاکستانی قیادت کو اعتماد میں لینگے ۔ اس بارے میں افغان دارلخلافہ کابل میں مقیم ایک صحافی عبدالرشید خان نے تصدیق کرتے ہو ئے کہا کہ مذاکرات کیلئے گراؤنڈ تیار کی جا رہی ہے اور مشرقی افغانستان میں صوبہ پکتیا، پکتیکا ، خوست ، گردیز جبکہ جنوبی افغانستان میں صوبہ قندہار اور کنڑ کو طالبان کو دئے جانے کا امکان ہے تاہم انہوں نے بتا یا کہ ابھی اس بارے میں وثوق سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ سرکاری سطح پر نہ تو افغان حکومت اور نہی طالبان کی طرف سے اس طرح کا کو ئی بیان سامنے آیا ہے ۔

19-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان