ملک میں مجسٹریٹی نظام بحال،مشترکہ مفادات کونسل نے چھٹی مردم شماری کی منظوری دے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
تاریخ اشاعت: 2015-03-19
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

ملک میں مجسٹریٹی نظام بحال،مشترکہ مفادات کونسل نے چھٹی مردم شماری کی منظوری دے دی ‘ بجلی کی پیداواری پالیسی 2015 ء پر صوبوں کے شدید اعتراضات پر منظوری اگلے اجلاس تک موخر کردی گئی، ارسا کو تمام صوبوں کو پورا پانی دینے کی ہدایت کردی گئی،مردم شماری اگلے سال کرائی جائے گی ،مردم شماری اور خانہ شماری پر تیرہ ارب روپے خرچ ہوں گے،یہ رقم تمام صوبے برابر ادا کرییں گے ضرورت پڑنے پر مردم شماری اور خانہ شماری کیلئے فوج کی بھی خدمات حاصل کی جائیں گی، وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ، تمام صو بے وفاق کے ساتھ مل کر مردم شماری اور خانہ شماری کرنے کیلئے اقدامات کریں،نوازشریف، اجلاس میں وزارت پانی و بجلی کی پاور جنریشن پالیسی 2015 ء پر تفصیلی بریفنگ ،ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی کے قیام اور پیٹرولیم پالیسی 2009 ء اور 2012 ء کی بھی منظوری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔19 مارچ۔2015ء) مشترکہ مفادات کونسل نے ملک میں مجسٹریٹی نظام بحال کردیا‘ چھٹی مردم شماری کی منظوری دے دی گئی‘ بجلی کی پیداواری پالیسی 2015 ء پر صوبوں کے شدید اعتراضات پر منظوری اگلے اجلاس تک موخر کردی گئی۔ ارسا کو تمام صوبوں کو پورا پانی دینے کی ہدایت کردی گئی‘ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس وزیراعظم میاں نواز ریف کی صدارت میں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں معنقد ہوا اجلاس میں تینصوبوں کے وزراء اعلیٰ وفاقی وزراء اور افسران نے شرکت کی ۔

اجلاس میں صوبوں نے ملک میں مجسٹریٹی نظام کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹی نظام کے خاتمے کی وجہ سے صوبوں کو مشکلات کا سامنا تھا اور ہر مسئلے پر عدلیہ سے رجوع کرنا پڑتا تھا۔ جس پر وزیراعظم نے مجسٹریٹی نظام کی بحالی کی منظوری دے دی اجلاس میں ملک میں گزشتہ سترہ سالوں سے مردم شماری نہ کرائے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے صوبوں کو ان کے جائز حقوق نہیں مل رہے ہیں اجلاس میں ملک میں چھٹی مردم شماری کرانے اور خانہ شماری کرانے کی بھی منظوری دی گئی جو اگلے سال کرائی جائے گی مردم شماری اور خانہ شماری پر تیرہ ارب روپے خرچ ہوں گے اور یہ رقم تمام صوبے برابر ادا کر یں گے اور ضرورت پڑنے پر مردم شماری اور خانہ شماری کیلئے فوج کی بھی خدمات حاصل کی جائیں گی وزیراعظم پاکستان نے تمام صوبوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاق کے ساتھ مل کر مردم شماری اور خانہ شماری کرنے کیلئے اقدامات کریں۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

19-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان