سپریم کورٹ کا اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر قائم مسلم لیگ (ن) ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ کا اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر قائم مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف سمیت سیاسی جماعتوں اور دیگر 2262 دفاتر کے نام سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر چڑھانے اور ان کیخلاف کارروائی کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم ،عدالت کی وزارت خارجہ کو اپریل کے پہلے ہفتے تک چھ سفارتخانوں کے سامنے موجود تجاوزات کو ہٹانے اور ان کی ڈپلومیٹک انکلیو منتقلی کے معاملات مکمل کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت، ملک میں طبقاتی تقسیم عروج پر ہے اپنی گاڑیوں والے مزے کررہے ہیں اور غریب کی سواری رکشے کی اسلام آباد داخلے کی اجازت تک نہیں ہے ، آئین و قانون کی پابندی سب اداروں کا فرض ہے اگر قانون نافذ کرنے والے خود ہی قانون کی دھجیاں اڑائیں گے تو پھر کس نے عمل کرنا ہے سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی خلاف ورزی کررہے ہیں تو عوام کے حقوق کا کیا تحفظ کرینگے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کے ریمارکس

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔18 مارچ۔2015ء ) سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر قائم مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف سمیت سیاسی جماعتوں اور دیگر 2262 دفاتر کے نام سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر چڑھانے اور ان کیخلاف کارروائی کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے یہ حکم چیئرمین سی ڈی اے کو منگل کے روز جاری کیا ہے جبکہ عدالت نے وزارت خارجہ کو اپریل کے پہلے ہفتے تک مہلت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ چھ سفارتخانوں کے سامنے موجود تجاوزات کو ہٹانے اور ان کی ڈپلومیٹک انکلیو منتقلی کے معاملات مکمل کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے جبکہ تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اپنے ممالک میں ہمارے سفارتخانوں کو ایک انچ تجاوز کی اجازت نہ دینے والے ہمارے ملک میں چوہدری بنے بیٹھے ہیں ہمارے آئینی و قانون اور ویانا کنونشن کے تحت تسلیم شدہ ہدایات پر عمل کرنے سے دانستہ انکاری ہیں ۔

ملک میں طبقاتی تقسیم عروج پر ہے اپنی گاڑیوں والے مزے کررہے ہیں اور غریب کی سواری رکشے کی اسلام آباد داخلے کی اجازت تک نہیں ہے غریب لوگوں کو کیا جینے کا کوئی حق نہیں ہے عوام الناس کے پبلک ٹائلٹس تو کجا اسلام آباد شہر کا ماسٹر پلان بنانے والے یونانی ماہر نے پبلک ٹرانسپورٹ تک نہیں رکھی حکومت نے عوام کے ساتھ مذاق کرنا ریت بنالی ہے آئین و قانون کی پابندی سب اداروں کا فرض ہے اگر قانون نافذ کرنے والے خود ہی قانون کی دھجیاں اڑائیں گے تو پھر کس نے عمل کرنا ہے سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی خلاف ورزی کررہے ہیں تو عوام کے حقوق کا کیا تحفظ کرینگے ۔

انہوں نے یہ ریمارکس گزشتہ روز دیئے ہیں سفارتخانوں کی جانب سے رکاوٹوں کے حوالے سے سماعت کی گئی ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ تین طرح کے معاملات تھے جن کا جواب مانگا گیا تھا بارہ مارچ کو آرڈر جار کیا گیا تھا سی ڈی اے کے وکیل حافظ ایس اے رحمان نے بتایا کہ 90 کے قریب رکاوٹیں تھیں جن سے اب 13 رہ گئی ہیں جو بہت حساس ہیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ لاہور میں بھی واقعہ ہوا ہے حساس مقامات کی سکیورٹی ضروری ہے ۔ ایس اے رحمان نے کہا کہ فارن مشنز میں چھ نے مزید وقت مانگا ہے جبکہ ایک نے کردیا ہے ۔

عدالت نے کہا کہ اس حوالے سے بھی ہم نے رپورٹ مانگی تھی وکیل نے بتایا کہ اس میں پراگریس نہیں ہوسکی ہے ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہمارا مطمہ نظریہ ہے کہ پاکستان میں ہوگا وہ ہمارے آئین و قانون کے مطابق ہوگا دنیا کے چوہدری بن کر ہمارے آئین و قانون کی اجازت نہیں دی جاسکتی سویڈن میں آئین ایک انچ تجاوزات نہیں کرسکتے یہ فوراً گرادیں گے ویانا کنونشن کے تحت ہم سب نے اس کو تسلیم کیا ہوا ہے کوئی آکر ہمیں یہ کہ کہ ہم نے ویانا کنونشن پر دستخط تو کررکھے ہیں آئین پاکستان اور ویانا کی پرواہ نہیں ہے اور اس کے پابند نہیں ہیں ہم نے ساری جگہوں سے رکاوٹیں ختم کرنے کا نہیں کہا تھا ملکی سلامتی کے معاملات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا سویڈش سفارتخانے والا معاملہ ختم ہوگیا ہے سی ڈی اے نے اجازت نہیں دی تھی سی ڈی اے نے ہر چیز اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی کی وجہ سے رکاوٹیں نہیں ہٹائی گئی ہیں چھ فارن مشنز کی رکاوٹوں بارے رپورٹ کہاں ہے ؟ وکیل کے بتانے پر عدالت نے اس کا جائزہ لیا ۔

ایس اے رحمان نے کہا کہ اس میں وقت مانگا گیا ہے سی ڈی اے کام کررہا ہے خارجہ امور کی جانب سے سفارتخانوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اس میں وقت لگتا ہے 23 مارچ کے پروگرام کی وجہ سے سی ڈی اے اور وزارت خارجہ مصروف ہیں اس لئے وقت دیا جائے 15روز کا وقت دے دیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ سی ڈی اے ڈپلومیٹک انکلیو بنا دیا ہے تمام مشنز کو جگہ دے دی ہے اس الاٹمنٹ کے باوجود یہ سفارتخانے کیوں وہاں منتقل نہیں ہورہے ہیں کہتے ہیں کہ جان بھی ہمیں پیاری ہے مگر ہم نے انکلیو نہیں جانا وہ کیوں موجودہ جگہ پر ہی رہنے پر بضد ہیں اور محفو علاقے میں انہیں چلے جانے چاہیے افغانستان ، فلسطین کے سفارتخانوں نے رکاوٹیں ہٹا دی ہیں نیپال والوں نے اس معاملے پر احتجاج کیا ہے برصغی ہے یہاں تو ریت ہے کہ قانون جائے بھاڑ میں ہم نے کوئی بات نہیں ماننی ۔

جنوبی افریقہ نے ازخودرکاوٹیں ہٹا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

18-03-2015 :تاریخ اشاعت