سپریم کورٹ کا اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر قائم مسلم لیگ (ن) ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
تاریخ اشاعت: 2015-03-18
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ کا اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر قائم مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف سمیت سیاسی جماعتوں اور دیگر 2262 دفاتر کے نام سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر چڑھانے اور ان کیخلاف کارروائی کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم ،عدالت کی وزارت خارجہ کو اپریل کے پہلے ہفتے تک چھ سفارتخانوں کے سامنے موجود تجاوزات کو ہٹانے اور ان کی ڈپلومیٹک انکلیو منتقلی کے معاملات مکمل کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت، ملک میں طبقاتی تقسیم عروج پر ہے اپنی گاڑیوں والے مزے کررہے ہیں اور غریب کی سواری رکشے کی اسلام آباد داخلے کی اجازت تک نہیں ہے ، آئین و قانون کی پابندی سب اداروں کا فرض ہے اگر قانون نافذ کرنے والے خود ہی قانون کی دھجیاں اڑائیں گے تو پھر کس نے عمل کرنا ہے سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی خلاف ورزی کررہے ہیں تو عوام کے حقوق کا کیا تحفظ کرینگے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کے ریمارکس

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔18 مارچ۔2015ء ) سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر قائم مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف سمیت سیاسی جماعتوں اور دیگر 2262 دفاتر کے نام سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر چڑھانے اور ان کیخلاف کارروائی کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے یہ حکم چیئرمین سی ڈی اے کو منگل کے روز جاری کیا ہے جبکہ عدالت نے وزارت خارجہ کو اپریل کے پہلے ہفتے تک مہلت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ چھ سفارتخانوں کے سامنے موجود تجاوزات کو ہٹانے اور ان کی ڈپلومیٹک انکلیو منتقلی کے معاملات مکمل کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے جبکہ تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اپنے ممالک میں ہمارے سفارتخانوں کو ایک انچ تجاوز کی اجازت نہ دینے والے ہمارے ملک میں چوہدری بنے بیٹھے ہیں ہمارے آئینی و قانون اور ویانا کنونشن کے تحت تسلیم شدہ ہدایات پر عمل کرنے سے دانستہ انکاری ہیں ۔

ملک میں طبقاتی تقسیم عروج پر ہے اپنی گاڑیوں والے مزے کررہے ہیں اور غریب کی سواری رکشے کی اسلام آباد داخلے کی اجازت تک نہیں ہے غریب لوگوں کو کیا جینے کا کوئی حق نہیں ہے عوام الناس کے پبلک ٹائلٹس تو کجا اسلام آباد شہر کا ماسٹر پلان بنانے والے یونانی ماہر نے پبلک ٹرانسپورٹ تک نہیں رکھی حکومت نے عوام کے ساتھ مذاق کرنا ریت بنالی ہے آئین و قانون کی پابندی سب اداروں کا فرض ہے اگر قانون نافذ کرنے والے خود ہی قانون کی دھجیاں اڑائیں گے تو پھر کس نے عمل کرنا ہے سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی خلاف ورزی کررہے ہیں تو عوام کے حقوق کا کیا تحفظ کرینگے ۔

انہوں نے یہ ریمارکس گزشتہ روز دیئے ہیں سفارتخانوں کی جانب سے رکاوٹوں کے حوالے سے سماعت کی گئی ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ تین طرح کے معاملات تھے جن کا جواب مانگا گیا تھا بارہ مارچ کو آرڈر جار کیا گیا تھا سی ڈی اے کے وکیل حافظ ایس اے رحمان نے بتایا کہ 90 کے قریب رکاوٹیں تھیں جن سے اب 13 رہ گئی ہیں جو بہت حساس ہیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ لاہور میں بھی واقعہ ہوا ہے حساس مقامات کی سکیورٹی ضروری ہے ۔ ایس اے رحمان نے کہا کہ فارن مشنز میں چھ نے مزید وقت مانگا ہے جبکہ ایک نے کردیا ہے ۔

عدالت نے کہا کہ اس حوالے سے بھی ہم نے رپورٹ مانگی تھی وکیل نے بتایا کہ اس میں پراگریس نہیں ہوسکی ہے ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہمارا مطمہ نظریہ ہے کہ پاکستان میں ہوگا وہ ہمارے آئین و قانون کے مطابق ہوگا دنیا کے چوہدری بن کر ہمارے آئین و قانون کی اجازت نہیں دی جاسکتی سویڈن میں آئین ایک انچ تجاوزات نہیں کرسکتے یہ فوراً گرادیں گے ویانا کنونشن کے تحت ہم سب نے اس کو تسلیم کیا ہوا ہے کوئی آکر ہمیں یہ کہ کہ ہم نے ویانا کنونشن پر دستخط تو کررکھے ہیں آئین پاکستان اور ویانا کی پرواہ نہیں ہے اور اس کے پابند نہیں ہیں ہم نے ساری جگہوں سے رکاوٹیں ختم کرنے کا نہیں کہا تھا ملکی سلامتی کے معاملات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا سویڈش سفارتخانے والا معاملہ ختم ہوگیا ہے سی ڈی اے نے اجازت نہیں دی تھی سی ڈی اے نے ہر چیز اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی کی وجہ سے رکاوٹیں نہیں ہٹائی گئی ہیں چھ فارن مشنز کی رکاوٹوں بارے رپورٹ کہاں ہے ؟ وکیل کے بتانے پر عدالت نے اس کا جائزہ لیا ۔

ایس اے رحمان نے کہا کہ اس میں وقت مانگا گیا ہے سی ڈی اے کام کررہا ہے خارجہ امور کی جانب سے سفارتخانوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اس میں وقت لگتا ہے 23 مارچ کے پروگرام کی وجہ سے سی ڈی اے اور وزارت خارجہ مصروف ہیں اس لئے وقت دیا جائے 15روز کا وقت دے دیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ سی ڈی اے ڈپلومیٹک انکلیو بنا دیا ہے تمام مشنز کو جگہ دے دی ہے اس الاٹمنٹ کے باوجود یہ سفارتخانے کیوں وہاں منتقل نہیں ہورہے ہیں کہتے ہیں کہ جان بھی ہمیں پیاری ہے مگر ہم نے انکلیو نہیں جانا وہ کیوں موجودہ جگہ پر ہی رہنے پر بضد ہیں اور محفو علاقے میں انہیں چلے جانے چاہیے افغانستان ، فلسطین کے سفارتخانوں نے رکاوٹیں ہٹا دی ہیں نیپال والوں نے اس معاملے پر احتجاج کیا ہے برصغی ہے یہاں تو ریت ہے کہ قانون جائے بھاڑ میں ہم نے کوئی بات نہیں ماننی ۔

جنوبی افریقہ نے ازخودرکاوٹیں ہٹا دی ہیں جن ممالک کا کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ کیوں نہیں جارہے ہیں غریب ملکوں کی تو چلو اور بات ہے رولز آف بزنس کے تحت فارنس آفس کے تحت ان سے بات ہوگی اس مہینے کے آخر تک اس کی رپورٹ دے دیں عدالت نے آرڈر لکھوایا کہ پچھلی سماعت پر ہم نے کہا تھا کہ فارن مشنز کی رکاوٹیں ہٹادی جائیں اس حوالے سے ایک رپورٹ جمع کروائی گئی ہے بہت سی تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے 13 جگہیں حساس کہلاتی ہیں جن میں عبادت گاہیں بھی شامل ہیں ۔

ڈپلومیٹک مشنز کے حوالے سے مزید وقت مانگا گیا ہے کیونکہ حکومت 23 مارچ کو یوم پاکستان کی تقریب کے انتظامات میں مصروف ہے چیف آف پروٹوکول اور فارن آفس کے فارن مشنز سے مذاکرات ہونے ہیں رپورٹ دی جائے اور بتایا جائے کہ یہ سفارتخانے کب ڈپلومیٹک انکلیو میں جائینگے انہیں کہا جائے کہ وہ محفوظ علاقے میں جائیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ یہ بھی ریت ہے کہ عوام کے ساتھ مذاق کیا جانا چاہیے ۔ سی ڈی اے نے اشتہار دیا کہ سی ڈی اے نے موثر شکایات سیل بنا دیا ہے ہم نے پڑتال کی تو پتہ چلا کہ اس سیل پر صرف ایک شکایت آئی تھی صرف وہی شکایت جو ہم نے ارسال کی ۔

ابھی تک یہ سیل غیر فعال تھا ۔ حافظ ایس اے رحمان نے بتایا کہ اب یہ سیل فعال ہوچکا ہے سی ڈی اے کا اشتہار پڑھ کر سنایا عوام الناس فیکس اور ای میل کے ذریعے شکایات ارسال کرسکتے ہیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ یہ اشتہار کس اخبار میں شائع ہوا ہے ہم نے آپ کا کام کرنا شروع کردیا ہے آپ اپنا کام کیوں نہیں کرتے سڑکوں پر کیوں رکاوٹیں موجود ہیں ۔ وکیل نے بتایا کہ قومی اخبارات میں یہ اشتہار شائع ہوا ہے رات کودیکھا تھا جسٹس جواد نے کہا کہ آپ چیئرمین کو ٹیلی فون کرکے پوچھ لیتے کہ اشتہارات کا کیا کیا ہے ہم ہر روز یہ نہیں کرسکتے ۔

عوام الناس کی ضرورتیں پوری نہیں کرسکتے تو یہ افسران گھر چلے جائیں ممکن ہے کہ کوئی اور اچھا آفیسر آجائے عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ پندرہ مارچ سے یہ سیل فعال کردیا گیا ہے اب تک نو شکایات موصول ہوئی ہیں ۔ عدالت نے علی رضا ایڈووکیٹ کی دو درخواستوں پر سی ڈی اے وکیل سے جواب بارے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جوابات داخل کرادیئے ہیں ۔ 2005ء کے بلڈنگ کنٹرول رولز کے تحت رہائشی علاقوں میں کچھ کمرشل معاملات کی اجازت دی گئی ہے ان میں ڈاکٹرز انجینئرز اور دیگر شامل ہیں جنہوں نے اس کی خلاف ورزی کی ہے ان کو نوٹس دیئے گئے ہیں ۔

جسٹس جواد نے کہا کہ اس کے معاملات نہیں چلیں گے آپ نے چارٹ بنا کردے دیتا ہے کہ فلاں فلاں کو نوٹس دیا گیا ہے ہمیں کالم وائز جواب دیا جائے ۔ علی رضا نے بتایا کہ رہائشی عمارت میں مسلم لیگ (ن) کا دفتر بنا دیا گیا ہے ۔ آئی جی اسلام آباد نے پوری گلی بند کررکھی ہے مارکیٹ تک نہیں جاسکتے ۔60 ریسٹورنٹس قائم ہیں جسٹس جواد نے کہا کہ ہر کوئی آئین و قانون کا پابند ہے اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خلاف ورزی کرینگے تو پھر کون عمل کرے گا بات تو بنیادی حقوق کی ہے رہائشی علاقوں میں بعض دفاتر کام کررہے ہیں جو سی ڈی اے کے قواعد کی خلاف ورزی ہیں آئی جی پولیس نے بھی رہائشی گھر ایف سیون ون پر قبضہ کررکھا ہے اور اس کے اردگرد کا تمام ایریا بلاک کررکھا ہے حافظ ایس اے رحمان نے بتایا کہ 12مارچ کو نوٹس جاری کردیا گیا تھا عدالت نے حکم نامہ میں کہا کہ آئی جی موٹروے پولیس کو 2002ء میں نوٹس دیا گیا تھا مگر اب بھی ایف ایٹ میں ان کا دفتر کام کررہا ہے اس بارے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور بھی دفاتر ہیں جن میں مسلم لیگ اور پی ٹی آئی دیگر شامل ہیں سی ڈی اے ان کیخلاف بھی کوئی ایکشن نہیں لے رہا ہے سی ڈی اے حکام کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ وہ 2262 مکانات بارے رپورٹ دیں ان کیخلاف کیا ایکشن لیا گیا درخواست گزار بھی اس حوالے سے آگاہ کریں اپریل کے پہلے ہفتے تک سماعت ملتوی کردی ۔

جسٹس جواد نے کہا کہ کوئی پبلک ٹائلٹس نہیں ہیں غریب آدمی کی سواری رکشے تک کی شہر میں داخلے کی اجازت نہیں طبقاتی تقسیم جاری ہے گاڑیوں والے سفر کررہے ہیں غریب لوگ دھکے کھاتے پھرتے ہیں ہم نے فہرست مانگی تھی غریبوں کو بھی جینے کا کوئی حق ہے کتنے لوگوں کو پلاٹ دیا گیا ہے کسی کے ذمہ لگایا ہے کہ وہ اس بات کا کھوج لگائے کہ کتنے پلاٹس غریبوں کو دیئے گئے ہیں ۔

18-03-2015 :تاریخ اشاعت