اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدر ی کو عدالت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدر ی کو عدالت عالیہ کے حکم پر مہیاکی جانے والی سرکاری بلٹ پروف گاڑی کیس کی سماعت ، سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن ،سیکرٹری وزارت قانون وانصاف اور سابق چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کو نوٹس جاری ،تحریری جواب طلب،کیس کی مزید سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی گئی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔17 مارچ۔2015ء)اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدر ی کو عدالت عالیہ کے حکم پر مہیاکی جانے والی سرکاری بلٹ پروف گاڑی کیس کی سماعت کرتے ہوئے سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن ،سیکرٹری وزارت قانون وانصاف اور سابق چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب لیااور کیس کی مزید سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی گئی ۔

پیر کے روز سابق چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر دی جانے والی سرکاری بلٹ پروف گاڑی کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس نورالحق این قریشی اور جسٹس عامرفاروق پر مشتمل اسپیشل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار ایڈوکیٹ ریاض حنیف راہی۔ وزارت قانون وانصاف اور کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ملک فیصل رفیق اور ڈپٹی اٹارنی جنرل فضل الرحمن نیازی عدالت عالیہ میں پیش ہوئے جبکہ سابق چیف جسٹس کے وکیل شیخ احسن الدین ،ایڈوکیٹ توفیق آصف پیش ہوئے ۔

سماعت کے دوران وفاق کے وکلا ء نے عدالت کو بتایاکہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سرکاری بلٹ پروف گاڑی مہیاکرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکم دیاتھااور احکامات جاری کیے تھے کہ کیبنٹ ڈویژن بلاتاخیر سابق چیف جسٹس آف پاکستان کو سرکار ی بلٹ پروف گاڑی فراہم کر ے جبکہ وزارت قانون وانصاف چیف جسٹس آف پاکستان کو دی جانے والی گاڑی کے فیول اور مرمت کے اخراجات برداشت کرے گا۔

ڈپٹی اٹارنی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17-03-2015 :تاریخ اشاعت