اسلا م آباد،پمز سے ملنے والی نومولودبچے کی لاش نے پھر ہسپتا ل انتظامیہ کی کارکردگی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
تاریخ اشاعت: 2015-03-17
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 01/03/2017 - 11:39:31 وقت اشاعت: 01/03/2017 - 12:06:32 وقت اشاعت: 01/03/2017 - 12:10:49 وقت اشاعت: 01/03/2017 - 12:10:50 وقت اشاعت: 01/03/2017 - 12:10:53 وقت اشاعت: 01/03/2017 - 11:58:29 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

اسلا م آباد،پمز سے ملنے والی نومولودبچے کی لاش نے پھر ہسپتا ل انتظامیہ کی کارکردگی پرسوالیہ نشان چھوڑدیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔17 مارچ۔2015ء)پاکستان میڈیکل انسٹیوٹ آف سائنز”پمز“سے ملنے والی نومولودبچے کی لاش نے ایک بار پھر ہسپتال نتظامیہ کی کارکردگی پرسوالیہ نشان چھوڑدیا،وفاق کے بڑے سرکاری ہسپتال میں غیرقانونی طورپربچے کی لاش پمزایمرجنسی وارڈکے باتھ روم سے ملی جس پرپمزسیکورٹی حرکت میں آگئی ،نومولودبچے کی ماراوروارڈزمیں خواتین انسیڈنٹ کی خفیہ نگرانی شروع کردی گئی ۔

خبر رساں ادارے ذرائع کے مطابق گزشتہ روزپیرکوپمزکے ایمرجنسی وارڈکے باتھ روم سے ایک نومولودبچے کی لاش ملی جس پرانتظامیہ نے حرکت میں آتے ہوئے سیکورٹی کادائرہ کارنہ صرف وسیع کرنادیابلکہ فی الفوراس غیرشرعی اورغیرقانونی فعل کوسرانجام دینے والے نیٹ ورک کی تلاش بھی شروع کردی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق کنواری ماں نے بچہ ضائع کروانے کے بعداپناگناہ پمزکے کھاتے میں نہ صرف ڈال دیابلکہ اس گناہ میں پمزبرابرکاشریک جرم بھی ہے ۔

دوسری جانب پمزذرائع کے مطابق ہسپتال میں پیداہونے والے تمام بچوں کے ناف پرایک کلپ لگاہوتاہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ اس بچے کی ولادت پمزمیں ہوئی ہے تاہم ملنے والی نومولودکی لاش کی ناف پرکلپ یااس کانشان موجودنہ تھا۔پولیس نے بچے کواپنی تحویل میں نہ صرف لے لیاہے بلکہ پمزسے اس نیٹ ورک سے متعلق مزیدچھان بین کیلئے تعاون بھی طلب کرلیاہے ۔پمزذرائع کے مطابق بچے کی ولادت غیرقانونی پمزمیں ہوئی ہے ا وراس میں ہسپتال کابااثرعملہ شریک جرم ہوسکتاہے تاہم اس نیٹ ورک کوبے نقاب کرنے کیلئے اندرونی وبیرونی سیکورٹی نے وارڈزچیک کرناشروع کردیئے ہیں کہ کہیں ایسانہ ہوکہ کسی ایکسیڈنٹ خاتون کے ہاں مردے بچے کی ولادت ہوئی اورانہوں نے خوف سے یہ حرکت کی ہو

17-03-2015 :تاریخ اشاعت