ایران سے جو معاہدہ ہوگا، سعودی عرب بھی وہی چاہے گا: ترکی الفیصل،’بغیر کسی ہچکچاہٹ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

تلاش کیجئے

ایران سے جو معاہدہ ہوگا، سعودی عرب بھی وہی چاہے گا: ترکی الفیصل،’بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پوری دنیا یہی چاہے گی۔ ہمارا چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات پر یہ تحفظات ہیں،’میں سمجھتا ہوں کہ دولت اسلامیہ یا جس کو میں فحاش کہنا پسند کرتا ہوں سے لڑنا اسد سے لڑنا ہے۔ بشار الاسد نے جو اپنے لوگوں کے ساتھ رویہ رکھا اسی وجہ سے فحاش کو موقع ملا، میڈیا سے گفتگو

ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔17 مارچ۔2015ء )سعودی عرب کے شہزادہ ترکی الفیصل نے متنبہ کی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے سے خطے کے دیگر ممالک بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ ہونے کے بعد سعودی عرب بھی یہ حق مانگے گا اور دیگر ممالک بھی ایسا چاہیں گے۔سعودی عرب کی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے کہا ’میں ہمیشہ سے یہ کہتا آ رہا ہوں کہ ان مذاکرات کا جو بھی نتیجہ نکلتا ہے سعودی عرب بھی وہ مانگے گا۔

اگر ایران کو یورینیئم کی افڑودگی کی اجازت مل جاتی ہے چاہے کسی بھی سطح کی ہو، صرف سعودی عرب ہی یہی اجازت اپنے لیے نہیں مانگے گا۔‘’بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پوری دنیا یہی چاہے گی۔ ہمارا چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات پر یہ تحفظات ہیں۔‘واضح رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات کے لیے مارچ میں ایک معاہدہ ہونا ہے جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس کے بدلے میں ایران پر پابندیوں کو نرم کیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس ماہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد خلیجی ممالک کے دورے پر گئے تھے۔ اس دورے پر ان کو خلیجی رہنماوٴں نے کہا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار سے لیس ایران کے حوالے سے فکر مند ہیں۔ترکی الفیصل نے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17-03-2015 :تاریخ اشاعت