پاکستان کا ایران مخالف اتحاد میں شامل نہ ہو نے کا فیصلہ ، سعودی فرمانرو کی جانب ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-16
تاریخ اشاعت: 2015-03-16
تاریخ اشاعت: 2015-03-16
تاریخ اشاعت: 2015-03-16
تاریخ اشاعت: 2015-03-16
تاریخ اشاعت: 2015-03-16
تاریخ اشاعت: 2015-03-16
تاریخ اشاعت: 2015-03-16
تاریخ اشاعت: 2015-03-16
تاریخ اشاعت: 2015-03-16
تاریخ اشاعت: 2015-03-16
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

پاکستان کا ایران مخالف اتحاد میں شامل نہ ہو نے کا فیصلہ ، سعودی فرمانرو کی جانب سے وزیراعظم کو مدعوکرنا ریاض کی جانب سے بدلتی صورتحال میں سفارتی مشاورت کے عمل کا حصہ تھی،حکومتی عہدیدار

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔16 مارچ۔2015ء ) حکومت نے مشرق وسطیٰ میں ابھرتی صورتحال میں کسی فریق کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے کم از کم فی الحال تو اس کا یہی ارادہ ہے۔ایک سنیئر حکومتی عہدیدار نے میڈیا کو دئے گئے ایک انٹرویو میں بتا یا کہ پاکستان ایران مخالف اتحاد میں شمولیت میں جلدی نہیں کرے گا"۔وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جسے حکومت نے سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے خصوصی دعوت قرار دیا تھا۔

وزیراعظم کو مدعو کیا جانا ریاض کی جانب سے بدلتی صورتحال میں سفارتی مشاورت کے عمل کا حصہ تھی، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی مسلم رہنماؤں نے سعودی فرمانروا سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں فلسطین، مصر اور ترکی کے صدور، اردن کے بادشاہ، قطر اور کویت کے امیر جبکہ یو اے ای کے رہنماء شامل ہیں۔حکومتی عہدیدار جس دورے کے بعد میں بریف کیا گیا، کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان نے نواز شریف سے ریاض میں خطے میں تہران کے بڑھتے اثررسوک پر سعودی تحفظات پر بات کی۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ خودساختہ دولت اسلامیہ کا خطرہ بھی بات چیت کا حصہ بنا۔نواز شریف نے اپنے دورے کے دوران سعودی عرب سے تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق کیا اور یہ عزم بھی کیا کہ سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھایا جائے گا۔عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے اس کے بعد حالات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر نقصانات اور فوائد کو جانچا اور غیرجانبدار رہنے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان