برطانوی طالبات کی نئی ویڈیو، ترکی سے شام جانے کی تیاری،تینوں لڑکیاں 17 فروری کو ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-15
تاریخ اشاعت: 2015-03-15
تاریخ اشاعت: 2015-03-15
تاریخ اشاعت: 2015-03-15
تاریخ اشاعت: 2015-03-15
تاریخ اشاعت: 2015-03-15
تاریخ اشاعت: 2015-03-15
تاریخ اشاعت: 2015-03-15
تاریخ اشاعت: 2015-03-15
تاریخ اشاعت: 2015-03-15
تاریخ اشاعت: 2015-03-15
-

تلاش کیجئے

برطانوی طالبات کی نئی ویڈیو، ترکی سے شام جانے کی تیاری،تینوں لڑکیاں 17 فروری کو برطانیہ سے ترکی روانہ ہوئیں

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔15 مارچ۔2015ء )گذشتہ ماہ برطانیہ سے لاپتہ ہونے والی تین طالبات کی ایک نئی ویڈیو فوٹیج منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ بظاہر ترکی کی سرحد پار کر کے شام میں داخل ہونے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔یہ طالبات ممکنہ طور پر شام میں موجود شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے 17 فروری کو لندن سے روانہ ہوئیں تھیں۔برطانوی طالبات کی یہ نئی ویڈیو ترکی کے نشریاتی ادارے پر نشر کی گئی۔

اس ویڈیو میں طالبات کے ساتھ ایک شخص دکھائی دیتا ہے جو ترکی کی سرحد کے قریب ایک گاڑی کے باہر عامرہ عباسی، شمیمہ بیگم اور خازیدہ سلطانہ سے گفتگو کرتا ہے اور ان سے سفری دستاویزات پر بات کرتا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ اس ویڈیو کو بنانے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا جس پر الزام ہے کہ وہ ترکی کی سرحد پار کرنے کے لیے تینوں برطانوی لڑکیوں کی مدد کر رہا تھا۔ترکی کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ زیرحراست شخص جاسوس کے طور پر کام کرتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک نامعلوم ملک کے لیے بطور جاسوس کام کرتا تھا جو دولتِ اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں شامل ہے۔اس سے قبل برطانوی لڑکیوں کی ترکی پہنچنے کے بعد استنبول کے بس سٹیشن کی انتظارگاہ میں ان کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آچکی ہے۔وزارتِ داخلہ سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل سینفورڈ کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ترکی اور شام کی سرحد پر واقع غزیانتیپ نامی قصبے کی ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تینوں برطانوی لڑکیوں کو غیرقانونی طور پر لوگوں کو سرحد پار کروانے والوں کی مدد حاصل تھی۔

لاپتہ برطانوی لڑکیوں نے ممکنہ طور پر ترکی سے شام جانے کے لیے مقامی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان