کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے اپنی عسکری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-14
تاریخ اشاعت: 2015-03-14
تاریخ اشاعت: 2015-03-14
تاریخ اشاعت: 2015-03-14
تاریخ اشاعت: 2015-03-14
تاریخ اشاعت: 2015-03-14
تاریخ اشاعت: 2015-03-14
تاریخ اشاعت: 2015-03-14
تاریخ اشاعت: 2015-03-14
تاریخ اشاعت: 2015-03-14
تاریخ اشاعت: 2015-03-14
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

پشاور شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 13:18:22 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 17:25:13 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 17:51:32 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 17:51:44 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 17:59:23 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 17:59:23 پشاور کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے اپنی عسکری اور سیاسی شوریٰ کے اہم رکن کمانڈر قاری شکیل کی افغانستان میں ایک کارروائی کے دوران ہلاکت کی تصدیق کر دی

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔14 مارچ۔2015ء )کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے اپنی عسکری اور سیاسی شوریٰ کے اہم رکن کمانڈر قاری شکیل کی افغانستان میں ایک کارروائی کے دوران ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران تصدیق کی کہ قاری شکیل اور ان کے ایک ساتھی ڈاکٹر طارق علی جمعرات کو افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک کارروائی کے دوران مارے گئے ہیں۔

انھوں نے دونوں کمانڈروں کی ہلاکت کا الزام پاکستان کے خفیہ اداروں پر لگایا۔ تاہم ابھی تک سرکاری طور پر اس حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے اور نہ سرکاری ذرائع سے اس الزام کی تصدیق کی جا سکی ہے۔کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے بھی جمعرات کو ایک بیان میں کمانڈر قاری شکیل، ڈاکٹر طارق علی کے علاوہ ان کے دو دیگر ساتھیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ افراد کہاں اور کیسے مارے گئے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار اور خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کی تنظیم لشکر اسلام نے انضمام کا فیصلہ کیا ہے،پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے شکیل احمد حقانی عرف قاری شکیل کا شمار تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے اہم کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ان پر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14-03-2015 :تاریخ اشاعت