’فورتھ شیڈول‘ میں شامل افراد کی نگرانی مائیکرو چپس کے ذریعے کر نے کا فیصلہ، فورتھ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
پچھلی خبریں -

لاہور

تلاش کیجئے

’فورتھ شیڈول‘ میں شامل افراد کی نگرانی مائیکرو چپس کے ذریعے کر نے کا فیصلہ، فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا ممکن نہیں تھا اب انھیں مائیکرو چپس لگائی جائیں گی تا کہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے‘ شجاع خانزادہ

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔12 مارچ۔2015ء)صوبائی وزیرِ داخلہ شجاع خانزادہ کا کہنا ہے حکومت پنجاب نے ’فورتھ شیڈول‘ میں شامل افراد کی نگرانی کے لیے ان کے جسم میں مائیکرو چپس نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ داخلہ شجاع خانزادہ نے کہا صوبائی حکومت ایسے افراد کی مانیٹرنگ کو سخت کرنے کے لیے نیا نظام لا رہی ہے۔ جن کے نام مسلح گروہوں، فرقہ وارارنہ اور کالعدم تنظیموں کا رکن ہونے یا ان سے وابستگی کے باعث فورتھ شیڈول میں شامل ہیں۔

اس شیڈول میں شامل افراد کو اپنے علاقے سے باہر جانے کے لیے پولیس کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا جوائنٹ انٹیلیجنس کمیٹی نے گیارہ سو بتیس افراد کی فہرست بنائی ہے۔ جو تشدد میں ملوث رہے ہیں یا دہشتگردی کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں اور ایسے شعلہ بیان مقرر ہیں جو مسلح کاروائیوں کی حمایت کرتے ہیں،انھوں نے کہا کہ ’ان میں سے 700 افراد گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نگرانی کے لیے انھیں چپس لگائی جا رہی ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔

‘شجاع خانزادہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کو ایسی مشینیں دی جائے گی جن کی مدد سے وہ انگوٹھے کا نشان لے کر لوگوں کی شناخت کر سکیں گے۔ یہ مشینیں نادرا کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک ہوں گی۔وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ حکومتِ پنجاب نے لاوٴڈ سپیکر کے غلط استعمال، نفرت انگیز مواد، وال چاکنگ اور کرائیداری کے آرڈیننس جاری کیے ہیں اور اب صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاوٴڈ سپیکر کے استعمال کے قانون کی خلاف ورزی پر ساڑھے تین ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے ساڑھے تین سو کو عدالت سزا دے چکی ہے۔اس سوال پر کہ کیا نئے قوانین کے تحت لشکر جھنگوی اور جماعت الدعوہ جیسی تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی شجاع خانزادہ کا کہنا تھا کہ ’یہ کالعدم تنظیمیں ہیں جن کی پنجاب میں تعداد 14 ہے۔ ان کے خلاف

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12-03-2015 :تاریخ اشاعت