ٹریبونلز میں فیصلے کی تاخیر کرنے والے ججوں کو نکال دیا جائے، پی اے سی چیئرمین ایف ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
- مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

ٹریبونلز میں فیصلے کی تاخیر کرنے والے ججوں کو نکال دیا جائے، پی اے سی چیئرمین ایف بی آر اور ڈی جی آڈٹ کے مابین جھڑپ،کرپٹ افراد کو نہیں چھوڑوں گا، طارق باجوہ،باتیں نہیں ریکارڈ سے خود کو دیانتدار ثابت کریں، پی اے سی آڈٹ حکام سے بدتمیزی کرنے پر پی اے سی نے چیئرمین ایف بی آر کو بھی جھاڑ پلا دی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔12 مارچ۔2015ء) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی(پی اے سی ) کے اجلاس میں کرپٹ افراد کے خلاف سخت ایکشن لینے اور لوٹی ہوئی رقم واپس قومی خزانہ میں جمع کرانے پر چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کے مابین شدید جھڑپ ہوئی دونون افسران نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔ چیئرمین طارق باوجوہ خود کو دیانتدار قرار دینے کیلئے سینہ تان کر آڈٹ حکام پر برس پڑے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ممبران نے حد سے تجاوز کرنے پر طارق باجوہ کو جھاڑ پلا دی اور آبزرویشن دی کہ دیانتدار ہو تو ایف بی آر کے کرپٹ افسران کارروائی کیوں نہیں کرتے۔

بیانات نہیں بلکہ ریکارڈ سے خود کو دیانتدار صاف گو ثابت کرو اور آئندہ اجلاس میں کسی افسر کے ساتھ بدتمیزی کرنے سے گریز کرنا۔ افسران ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی عملدرآمد اور مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین ایم این اے افضال رانا کی صدارت میں ہوا جس میں ایف بی آر کے 1996-97 کے مالی حسابات پر آڈت اعتراضات کاج ائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں 18 سال پرانے آڈت اعتراضات اور پی اے سی کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کا جائزہ لیا آڈٹ حکام نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر کرپٹ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں کررہے جس سے ادارہ میں کرپشن ان کرپٹ عناصر کی وجہ سے ہے۔

آڈت حکام کے ریمارکس پر طارق باجوہ آپے سے باہر ہوگئے اور دونوں افسران کے مابین جھڑپ ہوگئی۔ طارق باجوہ نے کہا کہ گزستہ سال 21 گریڈ کے افسر کو بھی معطل کیا گیا ہے اس طرح کی مثال آڈیٹر جنرل آفس میں موجود نہیں ہے کرپشن پر متعدد سرکاری اہلکاروں کو ایف بی آر سے نکالا گیا ہے لیکن پھر بھی ہمیں کرپٹ عناصر کی فہرست میں شامل کیا جارہا ہے جس پر ممبران پی اے سی نے کہا کہ ریکارڈ آڈٹ حکام سے تصدیق کرالیں اخلاق سے گری ہوئی باتیں کرنے پر بعد میں طارق باجوہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان