انتہاپسند، دہشتگردی کی روک تھام و خاتمہ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، حکومت اسکا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
تاریخ اشاعت: 2015-03-12
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

انتہاپسند، دہشتگردی کی روک تھام و خاتمہ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، حکومت اسکا سد باب کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے،چوہدری نثار

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔12 مارچ۔2015ء)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ انتہاپسند، دہشتگردی کی روک تھام و خاتمہ پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور حکومت اسکا سد باب کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے یہ بات برطانوی سفیر فلپ بار ٹن نے سے ملاقات میں کہی جنہوں نے بدھ کو پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔ملاقات میں پاک برطانیہ دو طرفہ تعلقات، وزیر داخلہ کے برطانیہ کے حالیہ دورے، برطانوی قیادت سے ہونے والی اہم ملاقاتیں اور علاقائی صورتحال زیر بحث آئی۔

اس کے علاوہ پاکستان کی طرف سے سنگین سزاؤں پر پابندی ختم کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر دو طرفہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے پاکستان برطانیہ کے باہمی تعلقات میں مزید وسعت اور مضبوطی کے مثبت رجحان پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے پاکستان میں جمہوریت کے استحکام، معیشت کی بہتری اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کیلئے برطانوی حکومت کی مسلسل وابستگی اور مد دکو سراہا۔حکومتِ پاکستان کی ترجیحات پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ انتہاپسندی اور دہشتگردی کی روک تھام و خاتمہ پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور حکومت اسکا سد باب کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور کوششیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہمارے قومی جذبے کی عکاس ہیں اور امن کے سلسلے میں ہماری کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔پاکستان میں سنگین سزاؤں پر پابندی ہٹائے جانے کے معاملے پروفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ یہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے مگر وہ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے دوستوں کی تشویش کو سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے کیسزمیں سنگین سزاؤں پر پابندی کے خاتمے کے بعد یہ ممکن نہیں تھا کہ اس سلسلے میں جزوی طور پر پابندی برقراررکھی جاتی کیونکہ ایسا عمل تفریق ظاہر کرتا اور قانون اور آئین کے منافی ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کسی قسم کی جانبداری یا تفریق کی اجازت نہیں دیتا۔ وزیر داخلہ نے اس پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں مروجہ قانونی طریقہ کار پر مکمل طور پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے جوکہ ہر شہری کے حقوق کا پورا تحفظ کرے گی۔ برطانوی سفیر نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف حکومت اورپاکستانی عوام کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے برطانوی حکومت کی طرف سے سماجی شعبے اورریاستی اداروں کی مضبوطی کیلئے مسلسل وابستگی اور سپورٹ کی بھی یقین دہانی کرائی۔

12-03-2015 :تاریخ اشاعت