سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے لئے دیا گیا حتمی شیڈول ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-11
تاریخ اشاعت: 2015-03-11
تاریخ اشاعت: 2015-03-11
تاریخ اشاعت: 2015-03-11
تاریخ اشاعت: 2015-03-11
تاریخ اشاعت: 2015-03-11
تاریخ اشاعت: 2015-03-11
تاریخ اشاعت: 2015-03-11
تاریخ اشاعت: 2015-03-11
تاریخ اشاعت: 2015-03-11
تاریخ اشاعت: 2015-03-11
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے لئے دیا گیا حتمی شیڈول منظور کر لیا ،کے پی کے میں 30 مئی ‘ کنٹونمنٹ بورڈز میں 25 اپریل ‘ سندھ اور پنجاب میں 20 ستمبر اور اسلام آباد میں 25 جولائی 2015 کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم، الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات بارے ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کر نے کی ہدایت ،الیکشن کمیشن آئین کے تحت دیئے گئے اختیارات کو بھرپور طریقے سے استعمال کرے، کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنے فرائض ادا کرے،جسٹس جواد ایس خواجہ کے ریمارکس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔11 مارچ۔2015ء) سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانب سے کے پی کے‘پنجاب ‘ سندھ ‘ اسلام آباد اور کنٹونمنٹ بورڈز میں دیئے گئے بلدیاتی انتخابات کے پانچوں حتمیشیڈول کو منظور کرتے ہوئے کے پی کے میں 30 مئی ‘ کنٹونمنٹ بورڈز میں 25 اپریل ‘ سندھ اور پنجاب میں 20 ستمبر اور اسلام آباد میں 25 جولائی 2015 کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات بارے ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے جبکہ 3 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے آئین کے تحت دیئے گئے اختیارات کو بھرپور طریقے سے استعمال کرے ‘ الیکشن کمیشن اعلی اختیاراتی اور طاقتور ترین ادارہ ہے اسے آئین کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانا ہیں اسے کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنے فرائض ادا کرنے ہوں گے۔

انہوں نے یہ ریمارکس منگل کے روز دیئے۔ بلدیاتی انتخابات بارے کیس کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے منگل کے روز کی ۔ اٹارنی جنرل سلیمان بٹ سمیت دیگر حکام پیش ہوئے ۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 20 ستمبر پنجاب اور سندھ کے لئے تاریخ مقرر کر دی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ الیکشن کمیشن ایک طاقتور ترین ادارہ ہے آپ نے اپنی پاورز استعمال کرنی ہے۔

آپ نے لوگوں کا انتظار نہیں کرنا ۔ چھ ماہ کا آپ نے خود فرق ڈال دیا تھا اس میں بھی کمی ہونی چاہئے تھی ۔ الیکشن کمیشن میں ہمارے ریٹائرڈ ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ مارچ 2016 کی کیا تاریخ قبول کر سکتے تھے ۔ پنجاب کے وکیل نے بتایا کہ پچھلے کئی سالوں سے انتخابات نہیں ہو سکے تھے ۔ ناگہانی آفات آئی تھیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اب بھی آفات آئیں گی اور ضرور آئیں گی اگر کوئی تحقیقات ہیں تو بتائیں وگرنہ ہم اس طرح کے کمالات کی اجازت نہیں دیں گے ۔

9 سال سے ایک ہی حکومت کام کر رہی ہے۔ آئین اور عوام کا مذاق نہ اڑائیں۔ عدالت نے آرڈر لکھوایا کہ 6 مارچ 2015 کو انتخابات بارے شیڈول جاری کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ کے پی کے میں 30 مئی 2015 ‘ 43 کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات 25 اپریل 2015 طے کیا گیا تھا ۔ 20 ستمبر پنجاب اور سندھ کے لئے تاریخ مقرر کی گئی تھی اب اس بارے شیڈول دیا گیا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 25 جولائی 2015ء کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

جسٹس جواد نے کہا کہ اس میں زیادہ عرصہ کیوں؟ جبکہ یہ تو محدود علاقہ ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ شہری علاقوں کی حد بندی کرنی ہے۔ پہلی بار انتخابات ہورہے ہیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ کیوں 17 سال گزرگئے اور کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات نہیں ہوئے۔ پنجاب اور سندھ میں 9 سال کیوں انتخابات نہیں ہوئے؟ اس بارے میں رپورٹ دی جائے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہم نے رپورٹ جمع کروادی ہے۔ عدالت نے آرڈر میں لکھوایا کہ اسلام آباد میں 25 جولائی کو پولنگ ہوگی۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن نے ایک تفصیلی رپورٹ بھی جمع کروائی ہے جس میں مختلف صوبوں اور علاقوں میں عرصہ دراز سے انتخابات نہ ہونے کی وجوہات بتائی گئی ہیں کہ کیوں لوگوں کو ان کے اختیارات سے لمبے عرصے تک محروم رکھا گیا حالانکہ آرٹیکل 140 اے کے تحت بحال کرانا ضروری ہے اب جبکہ حکومت نے شیڈول دے دیا ہے اور تمامتر مراحل مکمل ہوچکے ہیں اور ای سی پی نے شیڈول دے کر واضح کردیا ہے کہ انتخابات کرادئیے جائیں گے لہٰذا الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ اب مزید تاخیر نہ کی جائے اور کے پی کے‘ کنٹونمنٹ بورڈز‘ اسلام آباد اور پنجاب‘ سندھ بارے انتخابی شیڈول بارے مرحلہ وار رپورٹس چیمبرز بھجواتے رہیں اور اس بارے الیکشن کمیشن عدالت کو آگاہی فراہم کرتا رہے۔

پنجاب کے وکیل سے عدالت نے کہاکہ آپ کا بیان ریکارڈ کیا جائے یا نہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ احکامات کی روشنی میں جوابات موصول ہوئے اور عدالتی حکم پر عملدرآمد کردیا گیا ہے۔ بعدازا ں کیس کی سما عت غیر معینہ مدت تک ملتو ی کر دی گئی

11-03-2015 :تاریخ اشاعت