بلوچستان اسمبلی نے قرآن مجید پرنٹنگ اور ریکارڈنگ کا مسودہ قانون منظور کر لیا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
-

کوئٹہ

کوئٹہ شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:45:44 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 18:45:15 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 19:38:20 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 19:38:29 وقت اشاعت: 27/02/2017 - 16:11:52 وقت اشاعت: 27/02/2017 - 12:34:50 کوئٹہ کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

بلوچستان اسمبلی نے قرآن مجید پرنٹنگ اور ریکارڈنگ کا مسودہ قانون منظور کر لیا ،بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا ترمیمی مسودہ وزیر قانون کی درخواست پر اگلے اجلاس تک موخر

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔10 مارچ۔2015ء) بلوچستان اسمبلی نے قرآن مجید پرنٹنگ اور ریکارڈنگ کا مسودہ قانون منظور کر لیا جبکہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا ترمیمی مسودہ وزیر قانون کی درخواست پر اگلے اجلاس تک موخر کر دیا گیا اسمبلی کا اجلاس پینل چیئرمین کے رکن سپوژمی اچکزئی کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں قرآن مجید پرنٹنگ و ریکارڈنگ کا مسودہ مشیر وزیر اعلیٰ برائے تعلیم سردار رضا خان بڑیچ نے مشیر وزیراعلیٰ برائے مذہبی امور کی عدم موجودگی میں ایوان میں پیش کیا اور ایوان نے متفقہ طورپر منظور کر لیا جبکہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن ترمیمی مسودہ قانون وزیرقانون عبدالرحیم زیارتوال کی درخواست پر اگلے اجلاس تک موخر کر دیا گیا اجلاس کے دوران سوالات و جوابات پر حکومتی ارکان نے اپوزیشن کو مطمئن نہیں کیا عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے وزیرمنصوبہ بندی و ترقیات سے دریافت کیا کہ مالی سال 2013-14ء میں یہ طریقہ کار طے ہوا تھا کہ کسی بھی حلقہ کا ترقیاتی فنڈ دوسروں حلقوں میں خرچ نہیں کیا جاسکتا جس پر رکن صوبائی اسمبلی سرداراختر جان مینگل نے کہا کہ حکومتی ارکان کی طرح اپوزیشن ارکان کو بھی فنڈز دیا گیا ہے یا نہیں وزیرریونیوشیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ طریقہ کار واضح کیا جائے کہ سب کو فنڈ ملا ہے یا نہیں ایک اور سوال کے جواب میں جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی میرعبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ سال 2014-15ء کے بجٹ میں ریکوڈک پروجیکٹ کے حوالے سے کوئی رقم مختص کی گئی ہے جس پر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ریکوڈک پروجیکٹ کیلئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے تھے تاہم اب تک ان کو ریلیز نہیں کیا گیا کیونکہ پروجیکٹ کو بند کر دیا گیا اور گزشتہ ادوار میں ریکوڈک پروجیکٹ کیلئے 11 ارب روپے جاری کئے گئے تھے تاہم اس پر پونے دو ارب روپے خرچ کئے گئے ایک اور سوال کے جواب میں سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ سو ڈیم پروجیکٹس کیلئے کتنی رقم جاری کی گئی ہے جس پر وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا کہ 100 میں سے 21 ڈیمز پر کام جاری ہے اور اب تک 7 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں جس پر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر حامد صاحب 21 ڈیمز کیلئے جو 10 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں یہ محکمہ کی جانب سے غلط فگر دیا گیا ہے محکمہ سے پوچھا جائے جس پر رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ متعلقہ سوال کے جواب سے مطمئن نہیں ہوں۔

10-03-2015 :تاریخ اشاعت