’برطانوی انسداد دہشت گردی پالیسی پر مسلمانوں کو بھروسہ نہیں‘ سابق مسلم پولیس ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
-

تلاش کیجئے

’برطانوی انسداد دہشت گردی پالیسی پر مسلمانوں کو بھروسہ نہیں‘ سابق مسلم پولیس اہلکار شدت پسندی کی روک تھام کے لیے حکومت کی ’باز رکھنے‘ کی حکمت عملی ’زہریلا برانڈ‘ ہے، سابق برطانوی پولیس افسر کی برطانوی انسداد دہشت گردی پالیسی پر کڑی تنقید

لندن ( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔10 مارچ۔2015ء )برطانوی پولیس کے ایک سابق اعلیٰ مسلمان افسر کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کی روک تھام کے لیے حکومت کی ’باز رکھنے‘ کی حکمت عملی ’زہریلا برانڈ‘ ہے۔برطانوی پولیس کے سابق افسر دل بابو نے کہا کہ جو پولیس اہلکار اس پروگرام کا حصہ ہیں ان کو عقیدے اور نسل کے بارے میں بنیادی معلومات تک نہیں ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی اس حکمت عملی پر زیادہ تر مسلمانوں کو بھروسہ نہیں ہے اور وہ اس کو جاسوسی کے ایک طریقے کی مانند دیکھتے ہیں وزارت داخلہ نے اس پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو شدت پسندی کی نشاندہی اور اس کو روکنے کے لیے تربیت دی گئی ہے۔

اس پروگرام کا بنیادی مقصد لوگوں کو دہشت گرد بننے یا دہشت گردوں کی مدد کرنے سے روکنا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا اطلاق تمام اہم سیکٹرز میں شروع ہو گیا ہے جیسے کہ بلدیاتی حکومتیں، ہیلتھ، تعلیم، جیل، امیگریشن اور فلاحی ادارے۔بابو 2013 میں میٹروپولیٹن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان