پاکستان کوآ ئند ہ چند سا لو ں میں پانی کے قحط کا سامنا ہو سکتا ہے، وفاقی وزیر پانی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
تاریخ اشاعت: 2015-03-10
- مزید خبریں

لاہور

تلاش کیجئے

پاکستان کوآ ئند ہ چند سا لو ں میں پانی کے قحط کا سامنا ہو سکتا ہے، وفاقی وزیر پانی و بجلی ،پانی و بجلی کی قلت ماضی کی بدانتظامی کا نتیجہ ہے بجلی کی قلت میں 3 سال میں قابو پالیں گے پانی کا مسئلہ طویل مدتی ہے 2 تین سال میں قابو نہیں پایا جا سکتا، بدقسمتی سے ماضی میں اس اہم معاملہ پر خاطرخواہ اقدامات نہیں کئے گئے ،آبی ذخائر کو بھی مسلسل سیاسی مفادات کی نظر کیا گیا ،بھارت کے ساتھ آبی تنازعہ حل کرنا چاہتے ہیں ، بھارت سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے،خواجہ آصف کا تقریب سے خطا ب اور میڈیا سے گفتگو

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔10 مارچ۔2015ء) وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ آبی تنازعہ حل کرنا چاہتا ہے بھارت سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے ۔ پانی و بجلی کی قلت ماضی کی بدانتظامی کا نتیجہ ہے بجلی کی قلت میں 3 سال میں قابو پالیں گے لیکن پانی کا مسئلہ طویل مدتی ہے 2 تین سال میں قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ پانی کا مسئلہ پوری دنیا میں اہم مسئلہ بن چکا ہے پاکستان میں پانی کا مسئلہ اہم مسئلہ ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے تقریب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہو ں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت مختلف بحرانوں کا سامنا ہے اور اس میں سب سے زیادہ اہم بحران پانی کا ہے اور بدقسمتی سے ماضی میں اس اہم معاملہ پر خاطرخواہ اقدامات نہیں کئے گئے اور آبی ذخائر کو بھی مسلسل سیاسی مفادات کی نظر کیا گیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ پوری دنیا کو موسمی تغیرات کی وجہ سے مختلف مسائل کا سامنا ہے آبی ذخائر کی تعمیر ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے آبی ذخائر کی قلت کے باعث پاکستان کو ہر سال سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواجہ آصف نے کہا کہ چند سالوں میں پاکستان کو پانی کے قحط کا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10-03-2015 :تاریخ اشاعت