فیصلے کی گھڑی آچکی اور اب محکمہ بلدیات میں یا تو گھوسٹ ملازمین رہیں گے یا شرجیل ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
-

حیدرآباد

تلاش کیجئے

فیصلے کی گھڑی آچکی اور اب محکمہ بلدیات میں یا تو گھوسٹ ملازمین رہیں گے یا شرجیل میمن ، وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ، اب ہمیں جزا اور سزا پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے عوام کے ایک ایک پیسے کو انکی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کیے جانے کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر کوششیں کرنی ہونگی ۔ کراچی میں کے ایم سی ، ڈی ایم سیز اور واٹر بورڈ کے گھر بیٹھے تنخواہ لینے والے ملازمین کے خلاف کاروائی کا عمل شروع کیا جا چکا ، حیدرآباد ڈویزن سمیت پورے صوبے میں کام نہ کرنے والے ملازمین کوفارغ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔ حیدرآباد میں صحافیوں سے گفتگو

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔9 مارچ۔2015ء) صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ فیصلے کی گھڑی آچکی اور اب محکمہ بلدیات میں یا تو گھوسٹ ملازمین رہیں گے یا شرجیل میمن ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں جزا اور سزا پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے عوام کے ایک ایک پیسے کو انکی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کیے جانے کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر کوششیں کرنی ہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے ایم سی ، ڈی ایم سیز اور واٹر بورڈ کے گھر بیٹھے تنخواہ لینے والے ملازمین کے خلاف کاروائی کا عمل شروع کیا جا چکا ہے جبکہ حیدرآباد ڈویزن سمیت پورے صوبے میں کام نہ کرنے والے ملازمین کوفارغ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔

وہ سابقہ ضلع ناظم سیکریٹریٹ حیدرآباد میں صحافیوں سے باتیں کر رہے تھے۔ صوبائی شرجیل انعام میمن نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صفائی او رصوبے کو سرسبز و شاداب بنانے کا کام ایک عبادت سمجھ کر شروع کیا ہے اور اس میں عوام سب سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے گلی محلوں کو صاف ستھرا رکھیں بلکہ شجرکاری مہم میں حصہ لیکر اپنے ماحول کو آلودگی سے پاک بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی حوصلہ شکنی ، انکا قلعہ قمع کرنے اور سرکاری فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کیلئے سندھ بینک کے ذریعے کراچی میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جہاں بائیومیٹرک طریقے سے انکا ریکارڈ محفوظ کیا جائیگا اور اس سے کام نہ کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی میں آسانی پیدا ہوگی ۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ سرکاری فنڈز کے استعمال کو شفاف بنانے کیلئے تمام ڈیٹا ویب سائیٹ پر رکھا جائیگا جس سے اندرون و بیرون ملک کے پاکستانی شہری اپنے ٹیکس کے پیسے کے استعمال کے عمل کی شفافیت کو خود ملاحظہ کر سکیں گے جبکہ اب کوئی بھی افسر کوئی بھی چیز مروجہ طریقے کار سے ہٹ کر نہیں خرید کر سکے گا نہ سرکاری فنڈز کا غلط استعمال ہو سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلا وزیر ہوں جس نے اپنے محکمے کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کے سپرد کیے ہیں کہ وہ محکمہ بلدیات میں فنڈ ز کے صحیح استعمال کو یقینی بنائیں جس کے براہ راست ثمرات عوام کو منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔

نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کیلئے سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبے میں امن امان کی صورتحال اب تسلی بخش ہے خصوصاً اندرون سندھ میں جرائم کے گراف میں بہت حد تک کمی آئی ہے اور حکومت سندھ نے امن امان کے سلسلے میں اپنی رٹ ثابت کرنے کیلئے اچھے اور ایماندار پولیس افسران کو تعینات کیا ہے جس کی زندہ مثالیں خیر پور ، جیکب آباد ، شکار پور اور خصوصاً حیدرآباد ہے جہاں جرائم کے خاتمے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09-03-2015 :تاریخ اشاعت