اسلحے کا سب سے بڑا خریدار سعودی عرب، بیوپاری امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
-

تلاش کیجئے

اسلحے کا سب سے بڑا خریدار سعودی عرب، بیوپاری امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ کی سربراہی میں قائم اتحاد میں شامل

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔9 مارچ۔2015ء)دنیا میں اسلحے کی خریداری میں سعودی عرب بھارت سے بازی لے گیا ہے اور سنہ 2014 میں سعودی عرب اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اتوار کو عالمی منڈی اور معیشت کے بارے میں تحقیق کرنے والی کمپنی آئی ایچ ایس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ گذشتہ چھ برسوں سے دنیا میں دفاعی تجارت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے اور سنہ 2014 میں کْل 64.4 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی جس میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب کا رہا۔

آئی ایچ ایس کے مطابق اسلحے کی تجارت میں اس ریکارڈ اضافے کی وجہ دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی جانب سے فوجی طیاروں کی مانگ میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ اور ایشیائی بحرالکاہل کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ سنہ 2013 کی طرح سنہ 2014 میں بھی اسلحے کی فروخت میں امریکہ پہلے نمبر پر رہا جبکہ اس کے بعد روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کا نمبر رہا۔ آئی ایچ ایس کی اسلحے کی عالمی تجارت کی سالانہ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے سعودی عرب کی جانب سے اسلحے کی مانگ میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کمپنی کے ماہر ت?جزیہ کار بین مورز کا کہنا ہے کہ ’اگر سعودی عرب کے ماضی کے اسلحے کے سودوں کو مد نظر رکھیں تو لگتا نہیں کہ آئندہ سالوں میں بھی اس میں کوئی کمی آنے جا رہی ہے۔‘رپورٹ میں اگرچہ یہ نہیں بتایا گیا کہ سنہ 2014 میں کتنا اسلحہ فروخت ہوا تاہم رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 اور 2014 کے درمیان سعودی عرب کی اسلحے کی مانگ میں 54 فیصد اضافہ ہوا اور سعودی عرب کے آئندہ خریداری کے آرڈرز کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سنہ 2015 میں ان سودوں کی لاگت 9.8 ارب ڈالر ہو جائے گی جو کہ اسلحے کی عالمی خریداری کا 52 فیصد ہو گا۔

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان