مصر:فرانسیسی مارکیٹ کے نزدیک بم دھماکا،ایک شخص ہلاک ،تین افراد زخمی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
-

تلاش کیجئے

مصر:فرانسیسی مارکیٹ کے نزدیک بم دھماکا،ایک شخص ہلاک ،تین افراد زخمی

قاہرہ(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔9 مارچ۔2015ء)مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں فرانسیسی سپرمارکٹ کیئر فور کے نزدیک بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔شہر میں ایک اور دھماکے میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق اتوار کو فرانسیسی سپر مارکیٹ کی شاخ سے چند میٹر کے فاصلے پر دھماکا ہوا ہے اور اس سے نزدیک واقع عمارتوں کے بیروں ی حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔اسکندریہ میں ایک پولیس اسٹیشن پر بھی بم حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں تین راہ گیر زخمی ہوگئے ہیں۔

کسی گروپ نے ان دونوں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں اجناد مصر نامی ایک جنگجو گروپ دارالحکومت قاہرہ ،اسکندریہ اور دوسرے شہروں میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرتا رہا ہے۔گذشتہ ہفتے قاہرہ میں عدالت عظمیٰ کی عمارت کے نزدیک بم دھماکا ہوا تھا۔واضح رہے کہ مصر میں انتہا پسند مسلح جنگجو سکیورٹی فورسز کو گذشتہ ڈیڑھ ایک سال سے اپنے بم حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

صوبہ سیناء کے نام سے گروپ کے جنگجو جولائی 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی مسلح افواج کے سابق سربراہ اور اب صدر عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے ملک کے بڑے شہروں اور خاص طور پر جزیرہ نما سیناء میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر بم حملے کررہے ہیں۔اس گروپ نے خود کو دولت اسلامی عراق وشام کے ساتھ وابستہ کررکھا ہے۔قاہرہ ،اسکندریہ اور دوسرے شہروں میں انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران چھوٹے پیمانے پر متعدد دھماکے کیے ہیں لیکن ان میں کوئی زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

29 جنوری کو اس جنگجو گروپ نے شمالی سیناء کے مختلف شہروں میں پے درپے بم حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں تیس سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ایک دن میں مصری سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔ان جنگجو گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ مصری فورسز کی سابق صدر کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاوٴن کے ردعمل میں حملے کررہے ہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مصر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاوٴن کے نتیجے میں ایک ہزار چار سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کردیا گیا ہے۔مصری عدالتوں نے سابق حکمراں جماعت اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت سمیت سیکڑوں کارکنان کو موت اور قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

09-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان