چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کے لیے سیاسی جماعتوں نے جوڑ توڑ اور ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
تاریخ اشاعت: 2015-03-09
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کے لیے سیاسی جماعتوں نے جوڑ توڑ اور رابطے مکمل کرلیے،ن لیگ کومطلوبہ تعداد نہ ملنے کاقوی امکان ،ق لیگ نے پیپلزپارٹی کے امیدواروں کوووٹ دینے کی حامی بھرلی ،جے یواآئی اور اے این پی بھی پی پی کاساتھ دے گی ، فاٹاکے ممبران بھی حکومت کی جانب سے بے وقت صدارتی آرڈیننس جاری کیے جانے پر نالاں ہیں ،کامیابی کی صورت میں پی پی کی جانب جاسکتے ہیں ‘میر حاصل بزنجو چیئرمین سینیٹ کیلئے متوقع حکومتی امیدوار ،پیپلز پارٹی نے صرف چیئرمین سینیٹ کی سیٹ پر امیدوار لانے کا فیصلہ کر لیا ،ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ اتحادیوں کو دیا جائے گا ، سینیٹ الیکشن کے حوالے سے دو رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔9 مارچ۔2015ء ) چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کے لیے سیاسی جماعتوں نے جوڑ توڑ اور رابطے مکمل کرلیے گئے نون لیگ کومطلوبہ تعداد نہ ملنے کاقوی امکان ہے قاف لیگ نے پیپلزپارٹی امیدواروں کوووٹ دینے کی حامی بھرلی ہے جس کاباقاعدہ اعلان بھی جلدمتوقع ہے ،جے یواآئی مدارس بارے حکومتی اقدامات پر غیر مطمئن ہے اس لیے ان کی نظریں بھی اب پی پی کی جانب مبذول ہورہی ہیں اے این پی بھی پی پی کاساتھ دے گی جبکہ فاٹاکے ممبران بھی حکومت کی جانب سے بے وقت صدارتی آرڈیننس جاری کیے جانے پر حکومت سے نالاں ہیں وہ بھی کامیابی کی صورت میں پی پی کی جانب جاسکتے ہیں ۔

میر حاصل بزنجو چیئرمین سینیٹ کیلئے متوقع حکومتی امیدوار ہیں تاہم وہ بھی حالا ت کاجائزہ لے رہے ہیں ممکنہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں وہ اپنے کاغزات واپس لیے سکتے ہیں ۔ چاروں صوبوں میں سینیٹ ممبران کا انتخاب مکمل ہونے کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ مسلم لیگ نون نے سینیٹر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ لانے کے لیے لابنگ شروع کر دی ہے ، بلوچ رہنما کو قوم پرست جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا۔

حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ اتحادیوں کا جو فیصلہ ہوا ساتھ دیں گے۔ سیاسی جماعتیں مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں ، نون لیگ نے اپنا چیئرمین سینیٹ لانے کے لیے بالآخر قاف لیگ سے بھی رابطہ کرلیا ، پرویز رشید نے مشاہد حسین سے ملاقات کی ، اسحاق ڈار اور پرویز رشید نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے رابطہ کیا ، سراج الحق کہتے ہیں جماعت اسلامی سینیٹ کا حلف اٹھانے کے بعد چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔

خواجہ سعد رفیق نے اے این پی کے رہنما امیر حیدر ہوتی کو فون کیا ، امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ وفاقی وزیر نے اسفند یار ولی کیلئے وزیر اعظم کا پیغام دیا ہے۔ آصف زرداری نے بھی اسفند یار ولی سے رابطہ کیا ہے ، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے وفود پیر کو اسلام آباد میں مشاورت کریں گے۔ذرائع نے خبر رساں ادارے کوبتایاکہ سیاسی جماعتوں نے رابطے مکمل کرلیے ہیں اور اس وقت پی پی امیدوار کی پوزیشن انتہائی مضبوط دکھائی دے رہی ہے اورانھیں مطلوبہ تعداد 48سے 53ارکان کی حمایت مل سکتی ہے جبکہ ن لیگ نے بھی اب پیپلزپارٹی کے امیدوار کومتفقہ امیدوار قرار دینے بارے مشاورت شروع کردی ہے جوآج پیرتک مکمل کرلی جائیگی ۔

ادھرپیپلز پارٹی نے صرف چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں امیدوار لانے کا فیصلہ کیا ہے ، ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ اتحادیوں کو دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی اعلیٰ سطح کی مشاورت میں اس بات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے کہ پیپلز پارٹی صرف چیئرمین سینٹ کے لئے اپنا امیدوار دے گی۔ ڈپٹی چیئرمین کاعہدہ اتحادیوں کو دیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی نے سینٹ الیکشن کے حوالے سے دو رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جس میں سینیٹر رضا ربانی اور سینیٹر ڈاکٹر قیوم سومرو کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی گزشتہ روز سے اپنا کام شروع کرچکی ہے اور مزید سیاسی جماعتوں سے رابطے کرے گی۔ کمیٹی کے رکن سینیٹر ڈاکٹر قیوم سومرو نے پیپلز پارٹی کی رہنما روبینہ خالد کو ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر لانے کی خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی صرف چیئرمین سینٹ کا الیکشن لڑے گی۔

09-03-2015 :تاریخ اشاعت