ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری اولین ترجیح ہے‘ راجناتھ سنگھ،پاکستان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-08
تاریخ اشاعت: 2015-03-08
تاریخ اشاعت: 2015-03-08
تاریخ اشاعت: 2015-03-08
تاریخ اشاعت: 2015-03-08
تاریخ اشاعت: 2015-03-08
تاریخ اشاعت: 2015-03-08
تاریخ اشاعت: 2015-03-08
تاریخ اشاعت: 2015-03-08
تاریخ اشاعت: 2015-03-08
تاریخ اشاعت: 2015-03-08
- مزید خبریں

تلاش کیجئے

ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری اولین ترجیح ہے‘ راجناتھ سنگھ،پاکستان اپنی سرزمین بھارت مخالف سرگرمیوں کے لئے استعمال نہ ہونے کو یقینی بنائے‘ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو گیا، ماحول کو بہتر بنانے میں پاکستان کو اہم رول ادا کرنا ہو گا، ملک کی سرحدیں محفوظ ہیں ،بھارتی وزیر داخلہ کی صحافیوں سے گفتگو

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔8 مارچ۔2015ء) ملک کی سرحدیں محفوظ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو گیا اور ماحول کو بہتر بنانے میں پاکستان کو اہم رول ادا کرنا ہو گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حکومت سازی کا انحصار مشترکہ پروگرام پر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے اور اس سلسلے کے تحت افغانستان‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش اور چین کے ساتھ بھی بھارت اپنے رشتے بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہم چاہیں گے کہ پڑوسی ملک پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے اور نیک نیتی کے ساتھ اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے آ گے جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات سے ہی مذاکراتی عمل کا آغاز ہو گیا ہے اور اب یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ماحول فراہم کرے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جب جب بھی مذاکراتی عمل شروع کیا جاتا ہے تب تب دونوں ممالک کے اندر تشدد کا گراف بڑھ جاتا ہے لیکن اس صورتحال میں لازمی ہے کہ اب دونوں ممالک کو مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی مشترکہ اور خلوص بھری کوششیں کرنی ہونگی۔

انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس ملک کو سائڈ لائن کرنے کے بعد خطے میں کسی بری پیش رفت کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مشترکہ بنیادوں پر اب تسدد کے خلاف لڑنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں جب تک نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ مسائل کو ایڈریس نہیں کیا جائیگا تب تک کچھ حاصل نہیں ہو گا تاہم انہوں نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ کشمیر میں لوگوں نے جمہوریت کا ساتھ دیا ہے اور اس سے پوری دنیا کو واضح پیغام چلا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے جمہوریت کے راستے کو چن لیا ہے جس کو دیکھتے ہوئے اب کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لئے کوششیں تیز کرنی ہونگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی پالیسی رہی ہے کہ ہمسایہ ممالک کیساتھ امن سے رہا جائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لداخ خطے میں کبھی کبھی چینی فوج کی دراندازی کے معاملات رونما ہوتے ہیں اور دونوں ممالک کے فوجی کمانڈروں کے درمیان اس معاملے پر بات چیت ہوتی رہی ہے اور چین نے بھارت کو یقین دلایا ہے کہ اب کی بار مستقبل میں ایسی صورتحال پر قابو پایا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات پر دیان نہیں دیا جائیگا بلکہ حکومت سازی کا انحصار مشترکہ پروگرام کی عمل آوری پر ہی ہو گا۔ انہوں نے ہولی کے موقع پر عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ خوشی کا یہ تہوار پورے ملک میں امن و آشتی کی نوید بن کر ابھرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حالات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رہیں اور بنگلہ دیش‘ پاکستان اور نیپال کے راستوں پر بھی سخت چوکسی برتی جا رہی ہے کیونکہ ان سرحدوں نے انسانی اور منشیات کی سمگلنگ بھی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے سبھی ممالک کو آگے آنا ہو گا اور سارک ممالک کو ہر صورت میں آپسی اشتراک کی جانب بڑھنا ہو گا۔

08-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان