سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو مراعات عدالتی حکم کے تحت دی گئیں‘ اٹارنی جنرل،افتخار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو مراعات عدالتی حکم کے تحت دی گئیں‘ اٹارنی جنرل،افتخار چوہدری کو قائمہ کمیٹی میں طلب کر کے مراعات پر جواب لیا جائے‘ پیپلزپارٹی کا مطالبہ،افتخار چوہدری لاہور میں بڑا گھر تعمیر کرا رہے ہیں‘ اعتزاز احسن کا الزام

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔7 مارچ۔2015ء) اٹارنی جنرل آف پاکستان سلیمان اسلم بٹ نے سینٹ کو جمعہ کے روز بتایا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بلٹ پروف گاڑی اور سکیورٹی عدالت عالیہ کے حکم کے تحت دی گئی ہے حکومت نے فیصلہ پر انٹرا کورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے تاہم عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی حکومت پابند ہے۔ اٹارنی جنرل نے سینٹ کو بتایا کہ آئین کی روح سے آزاد عدلیہ کے عدالتی انتظامیہ معاملات کو پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں لیا جا سکتا کیونکہ عدلیہ مقننہ اور انتظامیہ آئین کے تحت علیحدہ علیحدہ ادارے ہیں۔

اٹارنی جنرل سینٹ ایوان کے مطالبہ پر سابق چیف جسٹس کو دی گئی مراعات پر جواب دینے کے لئے آئے تھے۔ اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے مطالبہ کیا کہ یہ معاملہ قائمہ کمیٹی انصاف و قانون کو بھیجا جائے جو چیف جسٹس افتخار چوہدری کو طلب کر کے بھاری مراعات لینے پر باز پرس کرے تاہم یہ معاملہ بھیجا نہ جا سکا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ افتخار چوہدری غیر قانونی طریقہ سے مراعات لے رہے ہیں اور لاہور میں بہت بڑا بنگلہ رہائش کے لئے تعمیر کر ہرے ہیں جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ انہون نے بیٹے کی شادی قرض لے کر کی ہے اب دولت کہاں سے آ گئی ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینئر رفیق رجوانہ نے کہا کہ یہ معاملہ اہم ہے ہمیں اس پر تعمیری تنقید کرنی چاہئے ذاتیات پر نہیں جانا چاہئے یاد رہے کہ افتخار چوہدری نے اپنے ایک فیصلے میں چیئرمین سینٹ کے قبضہ سے سی ڈی اے کی اربوں روپے زمین واگزار کرائی تھی۔ اعتزاز احسن نے ایک اہم معاملہ پر کہا کہ ججوں کا ذاتی کنڈکٹ کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے پیپلزپارتی کے سینئر فرحت اللہ بابر نے قرارداد کے ذریعے سابق چیف جسٹس کو قائمہ کمیٹی میں طلب کرنے پر زور دیا لیکن چیئرمین نے اس کی اازت نہیں دی۔

سعید غنی کے سوال پر سابق چیف جسٹس کو دی گئی مراعات پر یہ ہنگامہ پیدا ہوا ہے۔ اٹارنی جنرل سلیمان اسلم بٹ نے سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی مراعات کی تمام معلومات سینٹ کو دی گئی ہیں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو دی گئی بلٹ پروف گاری اور فول پروف سیکیورٹی کے حوالے سے اٹارنی جنرل نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بلٹ پروف گاری اور سیکیورٹی عدالتی حکم کے تحت دی گئی ہے۔

اٹارنی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

07-03-2015 :تاریخ اشاعت