حکومت افہام تفہیم کی سیا ست چاہتی ہے تو سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کو تسلیم کرے،سید ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
تاریخ اشاعت: 2015-03-07
پچھلی خبریں - مزید خبریں

سکھر

تلاش کیجئے

حکومت افہام تفہیم کی سیا ست چاہتی ہے تو سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کو تسلیم کرے،سید خورشید شاہ،حکومت سینیٹ چئیر مین کے عہدے کے الیکشن میں نہ آئے اور پنجاب کی طرح رگنگ نہ کرے، وہاں سے اپوزیشن کو ایک سیٹ ملنا تھی مگر وہ بھی حکو مت نے لے لی ،قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا پریس کانفرنس سے خطاب

سکھر (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔7 مارچ۔2015ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے حکو مت سے کہا ہے کہ اگر وہ افہام تفہیم کی سیا ست چاہتی ہے تو سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کو تسلیم کر ے اور سینیٹ چئیر مین کے عہدے کے الیکشن میں نہ آئے اور پنجاب کی طرح رگنگ نہ کر ے وہاں سے اپوزیشن کو ایک سیٹ ملنا تھی مگر وہ بھی حکو مت نے لے لی سکھر میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ میں پیپلز پا رٹی ایک بار پھر اکثریتی پا رٹی بن کر ابھری ہے اور ہم اپنے اتحا دیوں کے ساتھ مل کر سینیٹ چئیر مین لا ئیں گے اور اسے بھی اکثریت سے کا میاب کرائیں گے تاہم چئیر مین سینیٹ کون ہو نگے اس کا فیصلہ پا رٹی اوراتحا دیوں کے ساتھ مل کرکریں گے حکو مت سے بھی اپیل ہے کہ وہ بھی ہما ری مدد کر ے ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے انتخا بات میں پی ٹی آئی اورمسلم لیگ میں روابط کی ابتدا پر دونوں کو مبا رکباد پیش کرتا ہوں اور سچے دل سے عمران خان کو کہوں گا کہ وہ پا رلیمنٹ میں آجا ئیں اب جب ان کے سینیٹرز پا رلیمنٹ میں جا ئیں گے اور وہ ارکان اسمبلی کو با ہرر کھیں گے تو یہ ان کے لیے خطرناک ہو گا اور اگر عمران خان اپنا گراف بڑھا نا چاہتے ہیں تو اسمبلی میں آجا ئیں اور فیصلوں میں شریک ہو جا ئیں انہوں نے کہا کہ سینٹ انتخا بات کے حوا لے سے ترمیم لا نے کے معا ملے پر ہم نے اسٹینڈلے کرثا بت کر دیا ہے کہ پا رلیمنٹریں کرپٹ نہیں ہیں اور اگر ہم اس پر اسٹینڈ نہ لیتے تو لو گ اسمبلیوں پر سوال اٹھا تے اور بہت بڑا دھبہ لگ جا تا اب قوم اورنو جوان ہما رے ویژن کو تسلیم کر ے انہو ں نے کہا کہ ہما ری کو ششوں کی بد ولت پنجاب کا وزیر اعلیٰ نو ماہ بعد اسمبلی میں آیا ہے جس پر انکے اپنے ارکان نے پیپلز پا رٹی کا شکریہ ادا کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ جب یورپ کے با رڈرز کھل سکتے ہیں تو پا کستان ، ہندوستان ، سری لنکا ، بنگلہ دیش ، بھو ٹان اور افغا نستان ایک کیوں نہیں ہو سکتے ہندو ستان کو تسلیم کرنا چاہیئے کہ مذکرات کے زریعے مسائل حل ہو نگے جنگ نہ ہندوستان کے مفاد میں ہے اور نہ پاکستان کے اور میں بھا رتی وزیر اعظم نریندر مو دی اور اپنی حکو مت سے کہوں گا کہ وہ مل بیٹھیں کیو نکہ جنگوں سے ملکوں کو نقصان ہو تا ہے اگر افغا نستان اپنے ملک میں امن کے لیے طا لبان سے مذکرات کررہا ہے تو اس میں کو ئی حرج نہیں اور پرامن افغا نستان ہی پا کستان کے لیے مفیدہو گاان کا کہنا تھا کہ بلدیا تی انتخا با ت کے حوا لے سے سپریم کو رٹ کے فیصلے کے ساتھ ہوں صو بوں کو تا ریخ دے دینی چا ہیئے میں کسی جما عت کے اندرونی معاملات میں نہیں پڑتاپیپلز پا رٹی سیا سی جماعتوں کے باہمی روابط کے حق میں ہے ۔

07-03-2015 :تاریخ اشاعت