لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ،سیالکوٹ میں 2بھائیوں کو سرعام قتل کتنے والے ملزمان کی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
-

لاہور

تلاش کیجئے

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ،سیالکوٹ میں 2بھائیوں کو سرعام قتل کتنے والے ملزمان کی سزا برقرار،ATCگجرانوالہ نے حافظ منیب اور حافظ مغیث کے 7قاتلوں کو 2،2بار سزائے موت،6کو عمر قیدسنائی تھی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔5 مارچ۔2015ء) جسٹس عبدالسمیع خان اور جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے بینچ نے سیالکوٹ میں بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیے جانے والے دوحفاظ بھائیوں کے قتل کے مقدمے میں ملزمان کی اپیل خارج کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت گجرانوالہ کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ محکمہ پراسیکیوشن کے ترجمان کے مطابق 15اگست 2010کو سیالکوٹ میں دو بھائیوں حافظ منیب اور حافظ مغیث کو ڈکیتی کے شبے میں سر عام تشدد کرکے قتل کیا گیا اور اس واقعے کی سنگینی کے باعث اس کی بازگشت عالمی میڈیا میں بھی سنی گئی۔

وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقع کا نوٹس لیا اور جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد واقعہ کی مکمل تفتیش کی گئی اور اگلے ہی برس انسداد دہشت گردی گجرانوالہ کی عدالت نے مقدمے کے 7مرکزی ملزمان علی رضا، محمد شفیق، محمد امین، سرفراز احمد، محمد اقبال، راشد اور جمیل کو 2،2بار سزائے موت کی سزا سنائی۔ عدالت نے دیگر 6 ملزمان قیصر، حسن رضا، جمشید، محمد وارث، عطیب اور اصغر علی کو عمر قید کی سزا سنائی۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

05-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان