عوم الناس کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے،سپریم کورٹ، سندھ حکو مت کو ملک میں سستا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

عوم الناس کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے،سپریم کورٹ، سندھ حکو مت کو ملک میں سستا مال ہونے کے باوجود باہر سے مہنگی گا ڑ یا ں خر یدنے کی اجازت نہیں دیں گے ،جسٹس سرمد جلال عثمانی ‘ یہ کیسا ٹھیکہ ہے رات کو خیال آیا اور صبح اٹھ کر ایک ارب 23 کروڑ روپے کا معاہدہ کردیا،پولیس کے انجینئرز بھلا کتنے ہی قابل کیوں نہ ہوں پاک فوج کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے‘ یہ قومی سطح کا معاملہ ہے اس کا حل چاہتے ہیں‘جسٹس جواد ایس خواجہ کے ریمارکس،سربیا کی دو نمبر اور پرانی گاڑیاں کی خریداری پر اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی نوٹس جاری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔5 مارچ۔2015ء) سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی جانب سے سربیا سے پولیس کی مدد کیلئے خریدی گئی گاڑیوں کے معاہدے کیخلاف محمود اختر نقوی کی درخواست کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کمال کیا ہے کہ پاک فوج کے قابل بھروسہ اسلحہ ساز مقامی فیکٹریوں سے سستے داموں ملنے والی گاڑیاں خریدنے کی بجائے سربیا کی دو نمبر اور پرانی گاڑیاں ایک ارب 23 کروڑ روپے میں خرید ڈالیں تاکہ عوام الناس کا تحفظ کیا جاسکے‘ اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اس معاملے پر آئین و قانون کے مطابق عدالت کی معاونت کریں‘ تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئیے کہ سندھ حکومت بہت ہی پارسا اور وعدے کی پابند ہے کہ جس نے کبھی بھی پہلے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی اسلئے یہ معاہدہ نہیں توڑ سکتی کیونکہ ان سے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کا خطرہ ہے‘ یہ کیسا ٹھیکہ ہے رات کو خیال آیا اور صبح اٹھ کر ایک ارب 23 کروڑ روپے کا معاہدہ کردیا‘ قواعد و ضوابط کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی خریداری کا کوئی اشتہار دیا گیا جبکہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دئیے کہ عوم الناس کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے مگر ملک میں سستا مال ہونے کے باوجود باہر سے زیادہ قیمت پر خریداری کی اجازت نہیں دے سکتے‘ یہ عوام کا پیسہ ہے‘ فوج اور پولیس کے معیار میں فرق ہے‘ پولیس کے انجینئرز بھلا کتنے ہی قابل کیوں نہ ہوں پاک فوج کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے‘ یہ قومی سطح کا معاملہ ہے اس کا حل چاہتے ہیں۔

انہوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روز دئیے۔ سماعت شروع ہوئی تو سندھ حکومت کی جانب سے فاروق ایچ نائیک جبکہ سندھ پولیس کی جانب سے عرفان قادر پیش ہوئے۔ سندھ حکومت کی جانب سے اسلحہ خریداری کیس میں عرفان قادر اور فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔ عرفان قادر نے کہا کہ معاملات مکمل ہوچکے ہیں آج ہم نے دلائل دینا تھے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ ایچ ایم سی والے آئے تھے ہم نے کہا تھا کہ آپ اسلحہ چیک کرلیں کہ یہ معیاری نوعیت کا ہے۔

اے پی سی کا منگوایا اسلحہ صحیح ہے اور اس کی قیمتیں بھی صحیح ہیں۔ ہیوی مکینیکل کمپلیکس کے قاسم اعجاز نے اس کا جائزہ لیا ہے اور تقابل بارے رپورٹ جمع کروادی ہے۔ اسلحہ سربیا سے خریدا گیا تھا۔ سندھ پولیس نے معاہدے کی کاپی دیکھی تھی جس میں لائٹ قسم کی گاڑیاں خریدی گئی تھیں۔ ہمارے مقصد کی گاڑیاں ابھی پاکستان نہیں آسکی ہیں۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ تمامتر گاڑیوں کے خدوخال اور پرزے عالمی معیار سے ملتے جلتے ہیں اور سربیا نے جو گارنٹی یا وارنٹی دی ہے اس کی کیا صورتحال ہے۔

ممکن ہے کہ جن قواعد و ضوابط کے تحت یہ اسلحہ خریدا گیا ہو وہ آپ سے میچ نہ کرتے ہوں۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ ایچ ایم سی (اے پی سی) کے محافظ ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ یہ سربین گاڑیاں ہیں کیا یہ واقعی ہیں؟ ایچ ایم سی کے افسر نے بتایا کہ لیاری میں سربیا کے بنائے گئے اسلحہ کو استعمال کیا گیا تھا۔ ہم نے کہا تھا کہ اس سے بہتر اسلحہ ان کو دے سکتے ہیں مگر سندھ حکومت نے اس کی مخالفت کی تھی اور خریدنے سے انکار کردیا تھا۔

جسٹس جواد نے کہا کہ کیا ان کا اسلحہ خریداری کا کوئی اشتہار آیا ہے؟ قاسم نے بتایا کہ ساڑھے 17 کروڑ روپے کی ایک گاڑی ہے۔ اس قسم کی گاڑی کی ہم 5 کروڑ روپے کی پیشکش کرچکے ہیں۔ ہماری گاڑی پروٹیکٹر کے نام سے ہے۔ انہوں نے بغیر اشتہار کے ٹھیکہ دیا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ 50 کروڑ روپے کا یہ ٹھیکہ کیسے دے دیا ہے۔ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے افسر نے بتایا کہ انہوں نے کبھی بھی ہم سے رابطہ نہیں کیا۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ شہریوں کی زندگیوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا لیکن اس طرح مہنگا اسلحہ بھی تو نہیں خریدا جاسکتا۔

عرفان قادر نے کہا کہ ہم ان کو بتانے کے پابند نہیں ہیں اگر یہ خریداری شفاف نہیں ہے تو ہم جواب دینے کو تیار ہیں۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ اگر یہ کوالٹی آپ کو پاکستان سے مل سکتی تھی تو آپ نے باہر سے کیوں منگوائی۔ عرفان قادر نے بتایا کہ ان کی کوالٹی پاکستان سے بہتر ہے اسلئے باہر سے اسلحہ منگوایا۔ ا سپر عدالت نے کہا کہ آپ ڈیل کو واضح کریں کہ یہ شفاف ہے؟ جس پر سندھ پولیس کے وکیل عرفان قادر نے اپنا جواب پڑھا کہ دونوں کے اسلحے میں تقابل پیش کردیتا ہوں۔

تصاویر بھی نوٹ کرلیں۔ پاکستانی اسلحہ کسی قسم کی پوزیشن کا ادراک نہیں کرسکتا جبکہ بیرونی اسلحہ سے ایسا ممکن ہے۔ قاسم نے بتایا کہ اسلحہ دو طرح کا ہے۔ ایک یورپی طرز کا اور دوسرا نیٹو طرز کا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آپ ہمیں سادہ لفظوں میں بتائیں۔ دو طرح کے سٹینڈرڈز کے درمیان بی 7 لیول اور 20 لیول میں سے کونسا معیار زیادہ تحفظ کا ضامن ہے۔ عرفان قادر نے کہا کہ آپ پہلے سوال سے بتائیں تاکہ ہمیں جواب میں آسانی ہو۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ اسلحہ جب آپ کو اپنے ملک کا سستا مل سکتا ہے تو باہر سے کیوں خریدتے ہیں اس کا جواب دیں۔ کیا یہ اسلحہ پاکستان آرمی استعمال کررہی ہے۔ اگر ہماری فوج اپنے بنائے گئے ٹینک استعمال کررہی ہے تو لیاری والے اگر توپیں لگاکر بیٹھے ہیں تو آپ ان سے ٹینک لے کر استعمال کیوں نہیں کرتے۔ ہم دہشت گردی میں اپنے جوانوں کا تحفظ چاہتے ہیں آپ پر سخت قسم کے اعتراضات ہیں۔ بی 7 تیار کررہے ہیں ان سے کیوں نہیں خریدتے۔

عرفان قادر نے کہا کہ ہم نے مزید اسلحہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

05-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان